فلسطینی سنٹر برائے ڈیویلپمنٹ اور آزادی ذرائع ابلاغ [ایم اے ڈی اے] نے فلسطینی اتھارٹی پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسیر صحافیوں سے تفتیش کے دوران ان پر دبائو ڈال کر ان کے ای میل اکائونٹ اور سماجی رابطے کی ویب سائیٹ کے پاس ورڈ مانگ رہی ہے۔
ایم اے ڈی اے پچھلے 20 ماہ سے فیس بک پر اپنی رائے کا اظہار کرنے والے صحافیوں پر حملوں کو مانیٹر کررہی ہے اور کچھ صحافیوں نے اسے بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی فورسز دوران تفتیش ان سے ان کے ای میل اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کے پاس ورڈ مانگ رہی ہیں۔
ایم اے ڈی اے نے بتایا ہے کہ اس کی رپورٹ فلسطین میں صحافیوں پر اپنی رائے کے اظہار پر ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔
فیس بک یوزرز اور بلاگرز کے خلاف کارروائیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں سماجی رابطوں کی ویب سائیٹوں پر نظر رکھتے ہیں اور انہیں اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔ ایم اے ڈی اے نے مغربی کنارے اور غزہ کے تمام متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر اپنی رائے کے اظہار سے پابندی ہٹا دیں اور صحافیوں اور شہریوں کے حقوق صلب کرنے کی کارروائیاں بند کردیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
