فلسطین کی ایک منظم عسکری تنظیم اسلامی جہاد نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے جواب میں فلسطینی مجاہدین کے راکٹ حملوں نے دشمن کو فائربندی پر مجبور کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ دشمن کے اصرار پر سیزفائر مجاہدین کی فتح اور دشمن کی شکست ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر رمضان عبداللہ شلح نےغزہ کی پٹی میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کو اس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مجاہدین کی شرائط کے تحت فائربندی معاہد قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ یہ مجاہدین کی بڑی فتح اور شہداء کے خون کا بہترین بدلہ ہے۔
خیال رہے کہ منگل کو مصر کی کوششوں سے اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان ایک عارضی فائربندی کامعاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل کوغزہ کی پٹی میں ٹارگٹ آپریشن بند کرنے اور فلسطینی مزاحمت کاروں کو اس کے جواب میں راکٹ حملے روکنے پر متفق کیا گیا تھا۔ پچھلے چار روز کے دوران اسرائیلی کےغزہ کی پٹی پر فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں کم سے کم پچیس فلسطینی شہید ہو گئے تھے اور جوابی کارروائی میں مجاہدین نےدو سو راکٹ فائر کیے ہیں۔
اسلامی جہاد کے رہ نما ڈاکٹر رمضان شلح نے کہا کہ القدس بریگیڈ اور دیگرمزاحمتی تنظیمیں صہیونی دشمن کے ساتھ ہر محاذ پر لڑنے اور بھرپورجوابی کاررائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کا اندازہ اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ چار روزہ جارحیت سے لگا لیا گیا ہے۔ فلسطینی مزاحمت کاروں نے پورے حوصلے اور عزم کے ساتھ صہیونی دشمن پر راکٹ حملے کیے ہیں جس نے دشمن کو مجاہدین کی شرائط کے تحت جنگ بندی پر مجبور کیا۔
رمضان شلح نے فلسطینی قوم پر زور دیا کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور مجاہدین کی ہر میدان میں مدد کریں تاکہ دشمن کو تمام محاذوں پر شکست فاش سےدوچار کیا جا سکے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

