اسرائیلی میڈیا میں آنے والی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صہیونی ورکز یونین”ہسٹڈروٹ” نے مغربی کنارے سے متصل پرفضاء مقام وادی اردن میں فلسطینیوں کی پانچ ہزار ایکڑ اراضی غصب کرنے کے بعد اسے یہودی آبادکاروں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی میڈیا نے فوج کے زیرانتظام "سول انتظامیہ” کو ڈیل کرنے والے شعبے کی جانب سے ایک تازہ دستاویزسامنے آئی ہے جس میں فلسطینیوں کی اراضی پر یہودیوں کے تازہ قبضے کا انکشاف کیا گیا ہے۔
اخبار "ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق ورکرزیونین کی جانب سے مغصوبہ اراضی اردن کی سرحد کے قریب دیوارفاصل کے اندر واقع ہے جو کم وبیش دو کلو میٹر کے علاقے پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہودی ورکرز یونین نےاس اراضی کے پلاٹ بنا کر اسے یونین”ہسٹڈروٹ” کے اہلکاروں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کےمطابق نسلی دیوار کے اندر ہونے کے باعث فوج نے اس علاقے کو فلسطینیوں کی آمد ورفت کے لیےپہلے ہی بند کر رکھا ہے جس کے باعث فلسطینی شہری اس اراضی میں کاشت کاری یا اس کی دیکھ بحال کے لیے اندر جا ہی نہیں سکتے ہیں۔ صہیونی مزدور یونین کی جانب سے فلسطینیوں کی عدم موجودگی سےفائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی اراضی پرقبضہ کیا گیا ہے۔
عبرانی اخبار مزید لکھتا ہے کہ "ہسٹڈروٹ” کی جانب سے رواں سال جنوری میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ وہ اپنے کارکنوں میں پانچ ہزار ایکڑ اراضی تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ وہ اراضی کس جگہ سے لی جائے گی۔
خیال رہے کہ سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب۔ اسرائیل جنگ میں صہیونی ریاست نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے ایک بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا۔ اس قبضے کے بعد یہودی آباد کاروں اور صہیونی حکومت نے مل کر فلسطینیوں کی اراضی ان سے ہتھیانے کی مہمات شروع کیں۔ انہیں مہمات کے دوران سنہ 1979ء میں "ہسٹڈروٹ” کی جانب سے وادی اردن اور مغربی کنارے میں یہودی کالونیوں کے قریب واقع فلسطینیوں کی اراضی پر قبضے کے لیے عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی۔ اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ یہودی کالونیوں کے آس پاس موجود فلسطینیوں کی اراضی یہودی آباد کاروں کو استعمال کرنے کی اجازت فراہم کی جائے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
