مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں فلسطینی خاندانوں کے مکانات کی جبرا مسماری اور انہیں گھروں سے محروم کرنے کی صہیونی پالیسی کو غیرانسانی اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل دانستہ طورپر فلسطینی شہریوں کو ان کے گھروں، شہروں اور بستیوں سے بے دخل کررہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کو جبری گھروں سے نکالنے، مکان تعمیر کرنے پر جرمانے کرنے اور ان کے مکانات کو مسمار کرنے کے غیرقانونی واقعات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں نے صہیونی فوج کے مظالم کا شکار بیت المقدس کے صب لبن خاندان کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کیا گیا ہے۔ صب لبن خاندان سنہ 1950 ء سے مقبوضہ بیت المقدس میں اپنی ہی اراضی پر بنائے گئے مکان میں مقیم چلا آ رہا ہے لیکن صہیونی فوج نے خاندان کا مکان یہ کہہ کر مسمار کردیا کہ وہ حکومت کی اجازت کے بغیر تعمیر کیا گیا تھا۔ اسی نام نہاد بہانے کی آڑ میں فلسطینیوں کے مکانات کو مسمار کیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی گروپوں نے فلسطینی اتھارٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ نہتے شہریوں کے مکانات کی مسماری کا معاملہ عالمی فوج داری عدالت میں اٹھائے اور اسرائیل کو فلسطینیوں کی املاک پرحملوں اور ان کی تباہی سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے عالمی برادری کی جانب سے فلسطین میں مکانات مسماری اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے واقعات پر دانستہ خاموشی اختیار کرنے کی بھی مذمت کی اور کہا ہے کہ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی صہیونی ریاست کو فلسطینیوں کے خلاف مظالم جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
