اسرائیل کے داخلی سلامتی کے وزیر نے اعتراف کیاہے کہ فلسطینی شہریوں کی جانب سے انفرادی طورپر کی جانے والی مزاحمتی کارروائیوں کو روکنا ممکن نہیں ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی وزیر یتزحاق اھرونوفیٹچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے علاوہ اب فلسطینی شہری انفرادی طورپر مزاحمتی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ کسی تنظیم کو روکنا تو آسان ہے مگر شہریوں کی انفرادی کارروائیوں کی روک تھام ایک مشکل کام ہے اور اسرائیل اس میں بری طرح ناکام رہا ہے۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار’’یدیعوت احرونوت‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی داخلی سلامتی کے وزیر کوسخت پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ وہ تمام تر کوششوں کے باوجود بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں امن قائم کرنے میں ناکامرہے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کے باوجود فلسطینیوں کی جانب سے یہودی آباد کاروں اور فوجیوں پر حملے بدستور جاری ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کی انفرادی کارروائیوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر نے حال ہی میں بیت المقدس میں ایک کار کی ٹکر سے زخمی ہونے والی پانچ خواتین پولیس اہلکاروں کے واقعے کی طرف اشارہ کیا اور ساتھ ہی کہا کہ فلسطینیوں کہ اس طرح کے واقعات فلسطینیوں کی انفرادی کارروائیاں ہیں۔
ادھربیت المقدس میں اسرائیلی پولیس چیف یوحنان ڈٰنینو کا کہان ہے پولیس بیت المقدس میں امن تباہ کرنے کی کسی کواجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بیت المقدس کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ صہیونی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی ادارے پولیس اہلکاروں اور یہودی آباد کاروں پر حملے کرنے والے فلسطینیوں کو سخت جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس پرحملے کرنے والوں کو آہنی دیواروں کا سامنا کرنا ہوگا۔
ادھر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز مغربی کنارے کے نابلس شہر میں ایک فلسطینی شہری نے اسرائیلی فوجی کا اسلحہ چھیننے کی کوشش کی تاہم فوجیوں نے اسے حراست میں لے لیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
