اسرائیل کی سپریم کورٹ آج منگل سے فلسطینیوں کی "متروکہ املاک” کو وزارت داخلہ کی ملکیت قرار دینے سے متعلق ایک متنازعہ قانون کے نفاذ پر غورشروع کر رہی ہے
۔ یہ قانون کچھ عرصہ قبل فلسطینیوں کی متروکہ جائیدادوں پر قبضے کے لیے بنایا گیا تھا۔ فوری طور پراس قانون کا اطلاق مشرقی بیت المقدس میں اپنی جائیدادیں چھوڑ کر مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد ہونے والے شہریوں کی املاک پر ہو گا، جو کئی سال پہلے اپنی اراضی اور دیگر املاک بیت المقدس میں چھوڑ آئے تھے۔ اسرائیلی حکومت آج منگل سے اس کی باضابطہ سماعت شروع کرر ہی ہے۔
دوسری جانب فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں نے صہیونی ریاست کی جانب سے عدالت میں منظوری کے لیےپیش کردہ قانون کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اس کے سنگین نتائج پر متنبہ کیا ہے۔ فلسطینیوں کے سماجی حقوق کے نگراں ادارے "مرکزالعدالہ” کی جانب سے جاری ایک بیان میں اسرائیلی حکومت کے تیار کردہ "متروکہ املاک”قانون کو فلسطینیوں کی املاک پرقبضے کا ایک ظالمانہ ہھتکنڈہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ جن جائیدادوں پر وہ قبضہ کرنے جا رہا ہے ان کے اصل مالکان موجود ہی نہیں ہیں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں۔ جائیدادوں کے مالک اپنے ملک میں موجود ہیں اور انہیں کسی بھی جگہ جائیداد بنانے اور رہائش اختیار کرنے کا پورا پوراحق حاصل ہے۔ متروکہ املاک محض ایک بہانہ جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کےحق ملکیت سے محروم کر کے ان کی املاک کو یہودیوں کے لیے حلال کرنا ہے۔
مرکزالعدالہ کی جانب سے صہیونی حکومت کے وضع کردہ "املاک متروکہ” قانون کے خلاف صہیونی عدالت میں ایک پٹیشن بھی دائر کی گئی کی ہے جس کی پیروی تنظیم کی خاتون وکیل ایڈووکیٹ سہاد بشارہ کر رہی ہیں۔
اس پٹیشن میں مسز بشارہ نے بتایا ہے کہ متروکہ املاک قانون کو درپردہ صہیونی جوڈیشل اتھارٹی کے مشیر اعلیٰ فائنٹچائن کی حمایت حاصل ہے اور وہ ذاتی طورپر بیت المقدس اور بعض دوسرے فلسطینی شہروں میں گھر بار چھوڑ کرجانے والےفلسطینیوں کی املاک یہودیوں کو دلوانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کےنہ صرف مالکان موجود ہیں بلکہ صہیونی عدالتوں میں انہوں نے اپنی ملکیتی جائیدادوں کے حصول کے لیے درخواستیں بھی دے رکھی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
