اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کو بدھ کو طلب کردہ اجلاس ایک مسودہ قانون پربحث کے لیے بلایا گیا ہے جس میں فلسطینیوں کی اراضی میں یہودیوں کو حق تصرف دلوانے کے ایک بل پرغور کیا جائے گا۔
فلسطین کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کی اراضی یہودی آباد کاروں کے لیے مباح قراردینے کا بل حکمران جماعت "لیکوڈ” کے ایک رکن ڈانی ڈانون کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ بل پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کرنے سےقبل مسٹر ڈانون نے پچیس اراکین پارلیمنٹ کے اس پردستخط بھی کرائے ہیں۔
مجوزہ مسودہ قانون میں پارلیمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی زمینیں یہودی آباد کاروں میں غیرمشروط طورپر تصرف میں لانے کی منظوری دے تاکہ مقبوضہ فلسطین، مغربی کنارے اور بیت المقدس میں فلسطینیوں کی ملکیتی زمینوں سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی طورپر کنیسٹ میں مغربی کنارے کی ایک یہودی کالونی "میغرون” کی توسیع کے لیے یہ قانون منظور کرایا جا رہا ہے کیونکہ میغرون کالونی میں انتہا پسند یہودی اپنے طورپر مکانات کی توسیع اور مزید تعمیرات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم کالونی کے قرب وجوار میں فلسطینیوں کی زمینیں ہیں جن پرقانونی طورپرانہیں تصرف کا حق حاصل نہیں ہے۔
رپورٹ کےمطابق ڈانی ڈانون کے تیار کردہ مسودہ قانون میں یہ سفارش کی گئی ہے جو فلسطینی رضاکارانہ طورپر”میغرون” کالونی کے قرب و جوار سے میں موجود اپنی اراضی سے دستبردار ہوں انہیں اس کے عوض مالی معاوضہ فراہم کیا جائے تاہم جو لوگ زمینیں خالی کرنے سے انکار کردیں تو پولیس کے ذریعے ان سے اراضی خالی کرائے جائے۔
ذرائع کے مطابق ڈانی ڈانون شدت پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی حمایت حاصل کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ نیتن یاھو اس بل کے حق میں پارلیمنٹ کو قائل کرلیں گے۔ کیونکہ وہ حالیہ دنوں میں مغربی کنارے میں یہودی تعمیرات کے تسلسل کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

