فلسطین کے تاریخی شہر الخلیل میں فلسطینیوں کے ہفتہ وار احتجاجی جلوس پر صہیونی فوج نے حسب سابق طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے
جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ کئی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینیوں نے الخلیل میں ہفتے کے روز بیت امر کے مقام پر ایک احتجاجی جلوس نکالا، جلوس میں مقامی شہریوں کےعلاوہ کئی غیر ملکی شہری بھی شریک تھے، جن میں دو کوریائی باشندے بھی شامل تھے۔
فلسطینیوں کے احتجاجی جلوس کو منتشر کرنے کے لیے صہیونی فوج نے ان پر لاٹھی چارج کیا، اشک آور گیس کے شیل پھینکے اور ان پر ربڑ کی گولیاں چلائیں۔ جسکے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ صہیونی فوج نے مظاہرین کا تعاقب کرکے کئی شہریوں کو حراست میں بھی لیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق بیت امر میں ہونے والی احتجاجی مظاہرے میں فلسطینی شہریوں اور صہیونی فوج کے درمیان آنکھ مچولی بھی ہوتی رہی ۔ مظاہرین نے صہیونی فوجیوں پر پتھراؤ کیا اور سڑکوں پر ٹائر جلا کر ان کےخلاف احتجاج کیا۔ الخلیل میں مزاحمتی کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ ان کے احتجاج کا مقصد علاقے میں یہودی بستیوں اور نسلی دیوار کی تعمیر کےخلاف آواز اٹھانا ہے۔ وہ ہر ہفتے یہودی آباد کاری اور نسلی دیوار کےخلاف احتجاج کرتے رہیں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
