سپریم اسلامک کونسل، مجلس اوقاف اور ادارہ اوقاف اسلامی نے اسرائیلی لیکود پارٹی سے تعلق رکھنے والے متشدد اور انتہا پسند رکن پارلیمان میری ریگف کی جانب سے دیگر پارلیمنٹیرینز کے ہمراہ مسجد اقصی پر دھاوا بولنے کے اعلان کو مسترد کردیا ہے۔ ریگف اس دورے کے دوران یہودی آباد کاروں کو مسجد اقصی میں اپنی عبادات کی ادائیگی کی اجازت دینے کے امکانات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔
سپریم اسلامک کونسل کے سربراہ شیخ عکرمہ صبری نے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے ترجمان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی رکن پارلیمان کا بیان مکمل طور پر قابل رد ہے، مسجد اقصی انتہائی معزز و مکرم اور اس طرح کے اراکین پارلیمان اور یہودی بستیوں کی کمیٹیوں سے کہیں بڑی اور بلند ہے۔ یہ مسجد تمام جہانوں کے پالنے والے کے فیصلے سے بنی ہے۔
شیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ یہودی رہنماؤں اور اراکین پارلیمان کی طرف سے قبلہ اول پر حملوں کی ایسی کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی رہنماؤں کی ان دھمکیوں سے قبلہ اول کو لاحق خطرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح اسرائیلی حکمران اس مسجد پر قبضے کے لیے بے تاب ہیں۔
شیخ عکرمہ صبری نے عرب اور اسلامی دنیا کے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے خوفناک بیانات کی صرف تردید اور مذمت کرنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے کے لیے متحرک ہوا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد اقصی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں پر تمام امت مسلمہ پر لازم ہو گیا ہے کہ وہ مسجد کے تحفظ کے لیے پیش پیش فلسطینی قوم سے بھرپور اظہار یک جہتی کرے۔
ادھر اوقاف اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل شیخ عزام الخطیب نے بھی صہیونی رہنما کے اس بیان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ بیان یہودی آباد کاروں کی جانب سے آئے روز مسجد اقصی پر حملوں کے تناظر میں دیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلمانوں کے شعائر پر حملوں کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔
شیخ عزام الخطیب نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ مسجد اقصی مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے اور اس کے خلاف اسرائیلی تصریحات سے وہ آگ بھڑک اٹھے کی جس کو بجھانا پھر کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
فلسطینی وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد نوح نے بھی اردنی خبر رساں ایجنسی ’’بترا‘‘ سے اپنی گفتگو میں اسرائیلی رکن پارلیمان کی جانب سے مسجد اقصی کے دورے کے اعلان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ہرزہ سرائی سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جس کے بعد خطے میں مختلف مذاہب کے درمیان جنگ کے آغاز کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسجد اقصی میں یہودیوں کو عبادت کا حق دینے کے حوالے سے اس طرح کا کوئی جائزہ دورہ کیا گیا تو اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسجد اقصی اپنی تمام عمارتوں، صحنوں اور احاطوں کے ساتھ مسلمانوں کا مقدس مقام اور اوقاف اسلامی کا حصہ ہے جس کے کسی ایک حصے میں بھی یہودیوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی پارلیمنٹیریز ریگف نے اسرائیلی روزنامے ’’ ھارٹز‘‘ میں شائع اپنے بیان میں کہا تھا کہ میرے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ یہودیوں کو اس مقام میں جانے کی اجازت کیوں نہیں جو ان کے لیے سب سے زیادہ مقدس ہے؟
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
