فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان اشتراک عمل کو مضبوط بنانے اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تین رکنی صدارتی کونسل کے قیام پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ آئندہ مفاہمتی عمل کے لیے یہ تین رکنی کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کر کے مختلف سیاسی جماعتوں کو پیش کرے گی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کل جماعتی کانفرنس کل بدھ کے روز غزہ کے ایک ہوٹل میں ہوئی جس میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس، فتح، اسلامی جہاد اور دیگر فلسطینی تنظیموں کی قیادت نےشرکت کی۔
اجلاس کے بعد مجوزہ کمیٹی کےرکن اور” الصاعقہ ” کے سیاسی شعبے کے رکن محی الدین ابودقہ نے مرکز اطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "کل جماعتی اجلاس بدھ کو دن گیارہ بجے سے دو بجے تک غزہ کے ایک ہوٹل میں ہوا۔ اجلاس کی کارروائی نہایت خوشگوار ماحول میں جاری رہی۔ اس دوران مفاہمتی میکنزم پرعمل درآمد کے مزید طریقہ کے لیے تین رکنی سربراہی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں حماس کے انجینئیر نزار عوض اللہ اور فتح کے ابراہیم ابوالنجا شامل ہیں”۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں اجلاس میں ڈیموکریٹک فرنٹ کے رکن رباح مہنا کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ ہر ماہ کمیٹی کے کسی دوسرے رکن کواس کا سربراہ بنایا جائےگا۔
ابو دقہ کا کہنا تھا کہ سہ رکنی کمیٹی کا پہلا اجلاس پرسوں ہفتے کے روز غزہ میں ہو گا۔ اجلاس میں غزہ کی پٹی میں اتحاد کو مضبوط بنانے اور سیاسی اشتراک عمل کو آگے بڑھانےکے حوالےسے پیش کردہ مختلف تجاویزغور کیا جائے گا۔
خیال رہےکہ فلسطینی سیاسی جماعتوں حماس اور فتح اور دیگردھڑوں کے درمیان مفاہمت کے ایک فارمولے پر گذشتہ دسمبر میں اتفاق رائے ہو گیا ۔ مصرکی ثالثی کے تحت طے پانے والےاس معاہدے میں تنظیم آزادی فلسطین، ملک میں نئے سیکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل، پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے اعلان ا اور دیگر اہم امور پر اتفاق کیا گیا تھا۔

