خیال رہے کہ حال ہی میں فلسطینی اتھارٹی کےزیرانتظام نیشنل بنک نے غزہ کی پٹی میں فلاحی تنظیموں کے اکائونٹس منجمد کرنے کا اعلان کیاگیا تھا۔ بنک کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ تمام مقامی اور غیرملکی فلاحی اداروں کے غزہ کی پٹی میں کھاتے بند کررہے ہیں۔
فلسطین کے نشینل بنک کے اس اقدام کے بعد درجنوں فلاحی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے بنک کھاتے بند ہونےسے غزہ کی پٹی میں ہزاروں غریب خاندانوں کی ماہانہ بنیادوں پر ہونے والی کفالت بند ہوجائے گی اور ہزاروں یتیموں کو وظائف فراہم نہیں کیے جاسکیں گے۔
گذشتہ روز فلاحی اداروں اور نیشنل بنک کی انتظامیہ کےدرمیان مذاکرات شروع ہوئے تھے جو بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگئے تاہم فلاحی اداروں کے رابطہ کار احمد الکرد نے "قدس پریس” کو بتایا کہ بات چیت کا سلسلہ مزید بھی جاری رہے گا اور ہم کوشش کررہے ہیں کہ نیشنل بنک کی انتظامیہ غریب شہریوں بالخصوص یتیموں اور بیوائوں کی امداد کا سلسلہ بند نہیں کرائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بنک انتظامیہ کو بتا دیا گیا ہے کہ اگرغزہ کی پٹی میں فلاحی اداروں کے اکائونٹس بند کیے گئے تو اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو ماہانہ بنیادوں پر امداد کی فراہمی معطل ہوجائے گی جس کی تمام ترذمہ داری بنک انتظامیہ پرعاید ہوگی۔ احمد الکرد نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور امید ہے کہ بنک انتظامیہ ہماری شرائط مان لے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
