فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے ایک منحرف لیڈر اور سابق پولیس چیف محمد دحلان کے حامی گروپ نے صدرعباس پر کڑی تنقید کی ہے۔ محرف لیڈر دحلان کے ایک حامی فلسطینی مجلسقانون ساز کے رکن ماجد ابوشمالہ کا کہنا ہے
کہ جب سے فلسطینی صدر محمود عباس نے صدارت کا منصب سنبھالا ہے، انہوں نے آئین اور قانون کو اپنا نعرہ بنا رکھا ہے لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ فلسطین میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ کبھی کبھی یہلا قانونیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
ابو شمالہ میڈیا میں محمود عباس کی جانب سے جاری ایک بیان پر اپنا رد عمل دے رہے تھے، جس میں صدر عباس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ محمود عباس نے فتح کے برطرف کردہ لیڈر محمد دحلان کو حاصل پارلیمانی تحفظ ختم کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمود عباس اپنے ذاتی مفادات مخصوص ٹولے کی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے مجلس قانون ساز کو بھی بائی پاس کر رہے ہیں۔ ان کے تمام اقدامات نہ صرف مجلس قانون ساز کےاصولوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ بجائے خود قانون ساز کونسل کی آزادی پر حملہ ہے۔آئین اور قانون جس لیڈر یا شہری کو تحفظ فراہم کرتا ہے محمود عباس اپنی انا کی خاطر اس کوحاصل آئینی تحفظ ان سے سلب کر لیتے ہیں۔ ماجد ابو شمالہ کا اشارہ فتح کے منحرف لیڈر محمد دحلان کی جانب تھا، جنہیں محمود عباس کے ساتھ کشمکش کی وجہ سے پارٹی سے نکال دیا گیا ہے اور وہ ان دنوں مختلف عرب ملکوں میں جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
ابوشمالہ کا کہنا تھا کہ محمد دحلان بھی مجلس قانون ساز کے رکن ہیں، انہیں آئینی تحفظ حاصل ہے۔ خود دحلان اس بات کی تردید کر چکے ہیں وہ مجلس قانون سازسے حاصل تحفظ سے دستبردار ہو کر عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔ کیونکہ ایک فلسطینی شہری کی حیثیت سے انہیں اپنے اس حق کے استعمال کا پورا جواز حاصل ہے۔ صدر سمیت کوئی دوسری مجاز اتھارٹی ان سے یہ حق سلب نہیں کر سکتی۔

