رپورٹ کے مطابق نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام قبلہ اول الشیخ ابو سنینہ نے کہا کہ قبلہ اوّل اس وقت سخت ترین خطرات میں گھر چکا ہے۔ اسرائیلی حکام قبلہ اوّل سے اپنا تعلق قائم رکھنے والے فلسطینی مرد اور خواتین کو ہرساں کرکے انہیں مسجد اقصیٰ سے دور کررہے ہیں۔ فلسطینی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے کمر بستہ ہیں۔
انہوں نے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں قیدیوں سے جاری غیرانسانی سلوک کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو صہیونی عقوبت خانوں میں ڈالے گئے فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔
الشیخ ابو سنینہ نے غزہ کی پٹی پراسرائیل کی دس سال سے مسلط کردہ معاشی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے بیس لاکھ سے زائد افراد کو زندگی کے انتہائی تلخ ایام کا سامنا۔ غزہ کی پٹی پرپابندیاں صہیونی ریاست کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جسے تاریخ ہمیشہ اسرائیلی ظلم کی ایک بدترن شکل کی صورت میں یاد رکھے گی۔
رپورٹ کے مطابق کل جمعہ کے روز نماز جمعہ کے لیے غزہ کی پٹی، غرب اردن اور بیت المقدس سے 50 ہزار فلسطینی مسجد اقصٰیٰ میں پہنچنے میں کامیاب رہے۔ اسرائیلی فوج نے یہودیوں کے مذہبی تہوار ’’عید المساخر‘‘ کےنام سے منائی جانے والی عید کی آڑ میں فلسطینی شہریوں کی قبلہ اوّل تک رسائی روکنے کی بھرپور کوشش کی تاہم اس کے باوجود پچاس ہزار فلسطینی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے لیے پہنچنے میں کامیاب رہے۔
