(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام قبلہ اوّل نے غزہ کی ناکہ بندی کو اسرائیلی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسجد الاقصی ٰ میں نماز جمعہ کےجم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے قبلہ اوّل امام وخطیب ’’ الشیخ یوسف ابو اسنینہ ‘‘نے غزہ کی ناکہ بندی کو اسرائیلی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت ایک منظم پالیسی کے تحت فلسطینی قوم کو ظلم کا نشانہ بنا کر ہرروز فلسطینیوں کو شہید کر کے ان کے گھر مسمار کر رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ غا صب صیہونی رژیم کے انتہا پسند دہشتگرد کہ جنہیں ریا ستی سر پرستی حا صل ہے فلسطینی زمینوں اور املاک پر غاصبانہ قبضہ کر نے اور فلسطینیوں کو زندہ جلانے سے بھی دریغ نہیں کر تے ہیں ۔
انہوں نے غزہ پٹی پرعائد اقتصادی اور معاشی پابندیوں کی شدید مذمت کر تے ہوئے کہا کہ غزہ کی ناکہ بندی اسرائیل کی فلسطینیوں پر ظلم کی بدترین مثال ہے۔
الشیخ ابو اسنینہ نے اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے صحافی محمد القیق کے ساتھ بھی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے القیق کی رہائی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈلوانے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ جمعہ کے روز علی الصباح ہی سے حسب معمول اسرائیلی فوج اور پولیس نے پرانے بیت المقدس کی ناکہ بندی کردی تھی تاکہ فلسطینی شہریوں کو نماز جمعہ کے لیے مسجد اقصیٰ میں پہنچنے سے روکا جاسکے لیکن اسرائیلی فوج اور پولیس کی کھڑی کی گئی تمام رکاوٹیں توڑ کرفلسطینی شہری قبلہ اول میں55 ہزار فلسطینی مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کر نے میں کا میاب ہو ئے ۔
