فلسطین کے محاصرہ زدہ شہرغزہ کی پٹی میں توانائی کے تازہ بحران کے باعث اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے۔ بجلی کے طویل اور وسیع تر انقطاع (بریک ڈاؤن)کے باعث اسپتالوں میں کم سن اور عمررسیدہ مریض تڑپ رہے ہیں۔
دوسری جانب غزہ کی حکومت اور اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے مصر سمیت تمام پڑوسی عرب ممالک اور عالمی برادری سے ہنگامی امداد کی اپیلیں کی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ محکمہ بجلی وقدرتی وسائل کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں گذشتہ تین روز سے ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث کئی پاور جنریٹر اور پاورپلانٹ بند ہو گئے ہیں۔ مصر اور اسرائیل کی جانب سے فراہم کردہ ایندھن کی مقدار میں کمی کے باعث شہر میں یہ طویل ترین بریک ڈاؤن شروع ہوا ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ بجلی کے سنگین بحران کے باعث محصور شہر میں تمام شعبہ ہائے زندگی بری طرح متاثر ہوئےہیں۔ سارا شہر اندھیرے میں ڈھوب چکا ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن صورتحال غزہ کے اسپتالوں میں ہے جہاں مریض اور اسپتالوں کا عملہ دونوں سخت مشکلات کا شکار ہیں۔
پاورسیکٹر میں آنے والے بحران کے باعث غزہ میں واٹرسپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ غزہ کے کئی شہری اور مضافاتی علاقوں سے پانی کی پائپ لائنوں میں پانی کی بندش کی شکایات کی بھرمار ہے۔ نشیبی علاقوں سے اونچے علاقوں میں پانی کی ترسیل بجلی کے ذریعے چلنے والے بڑی موٹروں کے ذریعے کی جاتی ہے اور بجلی بند ہونے کے باعث یہ موٹریں بھی بند ہو چکی ہیں جس کے باعث لاکھوں افراد پانی جیسی بنیادی ضرورت سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں مختلف سرکاری ایمرجنسی امدادی محکمے ہنگامی بنیادوں پر پانی کے ٹینکر اسپتالوں اور بعض بستیوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم عملے کی قلت اور ان کے پاس دستیاب وسائل کی کمیابی کے باعث انہیں پانی کی فراہمی میں مشکل کا سامنا ہے۔
ادھر دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں بجلی کے بحران کے باعث اسپتالوں میں 70 فی صد امدادی کام بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ اسپتالوں کو بجلی کےبریک ڈاؤن کے ساتھ پانی کی بھی شدید قلت کا سامنا ہے جس کے باعث سیکڑوں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
ادھر فلسطین یشہرغزہ کی پٹی میں حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے مصری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر غزہ کی پٹی کو اضافی بجلی فراہم کرے تاکہ شہریوں کو سنگین مشکلات سے بچایا جا سکے۔
خیال رہے کہ فلسطینی شہرغزہ کی پٹی سنہ 2006ء کے بعد سے اسرائیل کی انتقامی پالیسی کا شکار ہے۔ اسرائیل نے شہرکی بری، بحری اور فضائی ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کے باعث شہر میں کبھی پانی، کبھی بجلی، کبھی خوراک اور کبھی ادویہ کا سنگین بحران پیدا ہوتا ہے۔ پانچ سال سے مسلط اس ظالمانہ معاشی ناکہ بندی کے باعث سیکڑوں زندگیوں کے چراغ بھی بجھ چکے ہیں۔

