فلسطینی محاصرہ زدہ شہرغزہ کی پٹی میں اسرائیلی حکومت کی مسلط کردہ معاشی پابندیوں کے باعث توانائی کا سنگین بحران پیدا ہوا ہے جس کے نتیجے میں شہر میں مقامی صنعت بری طرح تباہی سے دوچار ہوئی ہے۔
توانائی کے بحران، بجلی، گیس اور قدرتی تیل کی سپلائی میں کمی آنے سے سیکڑوں کارخانے بند اور ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ میں جنرل انڈسٹریل یونین کے چیئرمین اور غزہ تاجریونین کے صدر علی الحائیک کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں توانائی اور بجلی کے تازہ بحران نے مقامی صنعت کو بری طرح تباہ کیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ شہر میں درجنوں کارخانے مقامی شہریوں کے ذاتی ہیں جن میں اشیائے خورو نوش اور دیگراشیاء کی تیاری کی جاتیں۔ بیرون شہر سے اشیاء کی آمد و رفت بند ہونے کے بعد فلسطینیوں کی گذراوقات کے لیے یہ مقامی کارخانے ہی واحد ذریعہ ہیں، لیکن شہر میں بجلی کے بحران کے باعث یہ مقامی کارخانے بند ہیں۔ شہرمیں بجلی ، گیس اور قدرتی تیل کی قلت کت باعث کئی مرتبہ ان کارخانوں کے بند کیے جانے کی وارننگ دی جا چکی ہے اور اب یہ کارخانے عملاً بند ہو چکے ہیں۔
ایک سوال کےجواب میں فلسطینی تاجر رہ نما نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں توانائی کے بحران اور کارخانوں کی بندش کا اصل ذمہ دار اسرائیل ہے جس نے گذشتہ چھ سال سے فلسطینیوں کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔
علی الحائیک نے فلسطینی حکومت پر زور دیا کہ وہ عرب ممالک بالخصوص مصری حکومت کے ساتھ توانائی کے بحران کے حل کے لیے ٹھوس معاہدے کرے تاکہ شہر میں ڈوبتی مقامی صنعت کو بچایا جا سکے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

