اسرائیلی فوج نے حماس کے زیر انتظام غزہ کی ساحلی پٹی میں گھس کر وسطی علاقے بریج کیمپ پر فائرنگ کرکے ایک فلسطینی کو شہید کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیر کی صبح شہید ہونے والا فلسطینی ذہنی مریض تھا۔
فلسطینی میڈیکل سروسز کے ذرائع نے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے نمائندے کو بتایا کہ ان کا عملہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے واقعے کی خبر پھیلنے کے چھ گھنٹے بعد اکیس سالہ نوجوان احمد نباھین کی لاش تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔
فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینی عملے کو احمد نباھین کی نعش تک پہنچنے سے روکے رکھا اور جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرتی رہی۔ اسرائیلی فوج نے زخمی نوجوان کی موت تک اسے ریڈ کراس کے دفتر تک لیجانے میں بھی نہ دیا۔
اتوار کی شام اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرق کی جانب نام نہاد اسرائیلی ریاست سے ملحق غزہ کی سرحد کے قریب آنے والے فلسطینیوں پر فائرنگ کردے گی۔ جس کے بعد آج ذہنی طور پر معذور اس فلسطینی نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے دیکھا کہ ایک فلسطینی سکیورٹی باڑ کے قریب آ رہا ہے لہذا انہوں نے اس پر فائر کھول دیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
