مرکزاطلاعات اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کابینہ کے جنرل سیکرٹری عبدالسلام بدرصیام نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ مشکل ترین معاشی حالات میں فلسطینیوں کو اشیائے ضروریہ کےحصول کے لیے متبادل راستے تلاش کرنا پڑے ہیں۔ اسرائیل نے پہلے ہی غزہ کی مکمل معاشی ناکہ بندی کردی تھی۔ اب مصرکی جانب سے بھی راستے بند ہیں۔ ایسے میں فلسطینیوں کو سرنگوں کے راستے اشیاء کے حصول کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا ہے۔ اس وقت غزہ کے محصورین کا مکمل انحصار ان سرنگوں پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصراوراسرائیل مل کرغزہ کی پٹی کی سرحد پربنائی گئی سرنگیں مسمار کررہے ہیں۔ سرنگوں کی مسماری کی مہم نے شہرکو تاریکی میں ڈبو کررکھ دیا ہے۔ شہرمیں بجلی اورایندھن نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بیشتر شہریوں کو اشیائے ضروریہ کا 20 فی صد بھی میسر نہیں ہیں۔ تعمیرات، صنعت، زراعت، تجارت، درآمدات وبرآمدات اور ماہی گیری تمام پیشے ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ جس کے باعث غزہ حکومت کو یومیہ لاکھوں ڈالر نقصان پہنچ رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں بدرصیام نے کہا کہ ان کی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں سرنگوں کے جواز کی ضرورت نہ رہے لیکن سرحدیں بند ہونے کے باعث ہمیں سنگین نوعیت کی مشکلات کاسامنا ہے جس کے باعث ہم غاروں کے راستے سامان لانے پرمجبور ہیں۔
فلسطینی حکومت کے عہدیدارکا کہنا تھا کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی کی سب سے زیادہ ذمہ داری صہیونی حکومت پرعائد ہوتی ہے جس نے شہرکو مغربی کنارے اور فلسطین کے دیگرعلاقوں سے کاٹ کررکھ دیا ہے۔ عالمی برادری کے سامنے غزہ کے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے تمام دعوے جھوٹ پرمبنی ہیں۔ زمین پرفلسطینیوں کو کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے۔ غزہ کے شہری مغربی کنارے کاسفرکرسکتے ہیں اور نہ ہی فلسطین کے دوسرے علاقوں میں انہیں جانے اور داخل ہونے کی اجازت ہے۔
