یورپ میں مقیم فلسطینی شہریوں اور وہاں پر کام کرنے والے انسانی حقوق کے گروپوں نے غزہ کی پٹی سے سمندر کے راستے یورپ کی طرف نقل مکانی کرنے والے شہریوں کو ہرممکن تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہنگامی امدادی سیل قائم کیا ہے۔
خیال رہے کہ غزہ کی پٹی پر جولائی کے پہلے ہفتے سے 26 اگست 2014 ء تک جاری رہنے والی صہیونی فوج کی جارحیت کے دوران درجنوں فلسطینی جان بچانے کے لیے سمندر کے راستے یورپی ملکوں کی جانب نکل گئے تھے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "یورپ۔ فلسطین کانگریس” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کانگرنس کا ایک وفد جزیرہ صقلیہ کی جانب روانہ ہوگیا ہے جہاں مختلف فلسطینی پناہ گزینوں کی سمندر میں موجودگی کا پتا چلا ہے۔ وفد میں برطانیہ میں فلسطین کلب کے چیئرمین زیاد العلول اور اٹلی میں فلسطینی سوسائٹی کے چیئرمین محمد حنون بھی شامل ہیں۔ یہ وفد سمندر میں پھنسے فلسطینی پناہ گزینوں کی جگہ کا تعین کرنے کے بعد انہیں ہرممکن مدد فراہم کریں گے۔ بعد ازاں ان کے بارے میں معلومات ان کے غزہ کی پٹی میں موجود اہل خانہ کو دی جائیں گی۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ امدادی وفد جزیرہ صقلیہ کے بعد یونان میں اسپتالوں میں زیرعلاج فلسطینیوں سے ملنے بھی جائے گا۔ اسپتال میں دوران علاج شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تدفین کے معاملے پر حکام سے بات چیت کی جائے گی۔ اس وفد میں اسکنڈنیوین ممالک میں فلسطینی مندوبین محمد ابو الھیجا، ڈنمارک میں فلسطین کلب کے مندوب محًمد سلامہ جزیرہ مالٹا کی جانب روانہ ہوں گے۔
مصری حکام کے مطابق گذشتہ 06 ستمبر کو ایک کشتی میں غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 400 شہری اسکندریہ شہر کے ساحل سے یورپی ممالک کو روانہ ہوئے تھے اور دوران سفر کشتی ایک دوسرے جہاز سے ٹکرائی ہے۔ جہاز میں چھ افراد کے سوار ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ تاہم حکام نے فلسطینی کشتی کے ڈوبنے کی خبروں کی تردید کی ہے اور کہا کہ کشی حادثے کے بعد 10 سے 15 افراد کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ ایک دوسرے ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ مسافر کشتی میں سوار پندرہ فلسطینی شہید ہوئے ہیں جنہیں لیبیا کے شہر بنغازی کی بندرگاہ سے سمندر سے نکال لیا گیا ہے، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
