اسرائیل کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی حکومت کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی دو ہمیشراؤں پر خفیہ طور پر غزہ کا دورہ کرنے کی پاداش میں فرد جرم عائدکی ہے۔
خیال رہے کہ اسماعیل ھنیہ کی دو بہنیں مقبوضہ جزیرہ نما نقب اور بئر سبع میں اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل اسرائیلی حکام کی طرف سے اجازت نہ ملنے کے بعد خفیہ طور پر ہی غزہ کا دورہ کیا تھا جس سے واپسی کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔
اسرائیلی عدالت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے کسی شہری کو حکومت کی اجازت کے بغیر بیرون ملک سفر کی قطعا اجازت نہیں ہے۔ اسماعیل ھنیہ کی دونوں بہنوں 48 سالہ صباح ھنیہ اور 64 سالہ لیلیٰ ھنیہ نے حراست میں لیے جانے کے بعد اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے خفیہ طور پر "خلاف قانون” 2012 ء میں غزہ کی پٹی کا دورہ کیا تھا۔
اسرائیلی ریڈیو رپورٹ کے مطابق چند ہفتے حراست میں رکھنے کے بعد دونوں بہنوں کو 3000 شیکل زر ضمانت کے عوض رہا کردیا گیا تھا۔
ادھر اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ” کے مطابق اسماعیل ھنیہ کی دونوں بہنوں نے رفح کے راستے غزہ کی پٹی کا خفیہ طور پر سفرکیا تھا۔ اسرائیلی حکام کو اس کی اطلاع نہیں تھی لیکن جب وہ واپس لوٹیں تو انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔
گرفتاری کے بعد اسماعیل ھنیہ کی دونوں بہنوں کو عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کے پاسپورٹ بھی ضبط کر لیے گئے تھے۔ بعدازاں انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی عدالت کی جانب سے فرد جرم سنائے جانے کے بعد اب سزا کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ مجسٹریٹ عدالت اگلی سماعت میں انہیں سزا سنا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اسماعیل ھنیہ کی انہی دونوں ہمشیراؤں نے 2006 اور 2009ء میں بھی اسرائیلی حکام سے غزہ جانے کی اجازت طلب کی تھی، لیکن ان کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
