اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس میں دراندازی کرکے فلسطینی اراضی پر فائرنگ کی۔ اس دوران صہیونی ہیلی کاپٹرز بھی فضا میں گردش کرتے رہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے دس ٹینکوں اور متعدد بلڈوزروں نے غزہ میں گھس کر اراضی کو روندا۔ غزہ کی سرحد سے پانچ سو میٹر اندر تک آکر خزاعہ علاقے کے ابو ریدہ دروازے کے قریب اسرائیلی بلڈوروں نے فلسطینی کی اراضی پر کھڑی فصلیں روند ڈالیں۔ اس موقع پر اسرائیلی ائیر فورس کے ہیلی کاپٹرز نے بھی فضاؤں سے اسرائیلی اراضی اور آبادیوں پر خود کالر ہتھیاروں سے فائرنگ کی ۔ تاہم خوش قسمتی سے کوئی فلسطینی اسرائیلی گولہ باری یا فائرنگ کی زد میں نہیں آیا۔ خیال رہے کہ اسرائیل 2005ء میں غزہ کی پٹی کو خالی کرنے کے بعد سے اب تک مسلسل غزہ کی سرحد کی خلاف ورزی کرکے فلسطینیوں کی آبادیوں پر گولہ باری کرتا رہتا ہے۔ اس طرح کی دراندازیوں میں اب تک سیکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی زیر تسلط فلسطین سے ملحق غزہ کی مشرقی سرحد کے قریب سے گزرنے والوں کو فائرنگ بنانا بھی اسرائیل فوجیوں کا مممول ہے۔ سرحد کے داخل ہوئے بغیر کی جانے والی اس فائرنک میں بھی اب تک سیکڑوں جاں بحق اور ہزاروں افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ صہیونی فوج کی جانب سے غزہ پر فضائی حملے، اور مغربی ساحلی سمندر میں فلسطینی ماہی گیروں پر فائرنگ میں بھی سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ صہیونی فوج ان چھ سالوں میں متعدد بار غزہ پر مربوط جنگ بھی مسلط کر چکی ہے، اس نوعیت کا سب سے بڑا حملہ سنہ 2008ء کے اواخر میں کیا گیا، اس تیس روزہ غارت گری میں 15 سو فلسطینی شہید اور پانچ ہزار زخمی کیے گئے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
