• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

غزہ جنگ میں فلسطینیوں کی فتح دشمن کی تزویراتی شکست ہے: ھنیہ

جمعرات 27-12-2012
in فلسطین
0
plf victory1
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ عرب بہاریہ کے بعد مُسلم اُمہ جدید تہذیب کے ایک نئے دورمیں داخل ہو رہی ہے۔ جن حالات سے اس وقت فلسطین اور دیگر عرب اور اسلامی ممالک گذر رہے ہیں، وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مسلم امہ اپنی نشاہ ثانیہ کے مراحل طے کر رہی ہے۔ یہ وہ دور میں جس میں فلسطینی اور عرب ممالک بالعموم پوری مسلم دنیا فتوحات کے نئے جھنڈے گاڑ رہی ہے اور دشمن کےمقدرمیں شکست کے سوا کچھ نہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وزیراعظم ھنیہ نے ان خیالات کا اظہارغزہ کے دورے پر آئے آسٹریلیا کے مفتی اعظم اور ترکی کی السعادہ پارٹی کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ نومبر کے وسط میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی دشمن کی آٹھ روزہ جنگ میں فتح فلسطینیوں کی ہوئی۔ اس جنگ میں دشمن کی شکست اسرائیل کی تزویراتی شکست ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کی جنگ میں فلسطینیوں کی فتح کی بات اس لیے کرتے ہیں کیونکہ اسلحے اور مادی قوت کے اعتبار سے نہتے اور مٹھی بھرمجاہدین اور اسرائیلی فوج کے درمیان طاقت کے توازن میں ایک نمایاں فرق تھا۔ البتہ مجاہدین ایمان و یقین کی طاقت سے لبریز تھے جبکہ دشمن کو صرف مادی مشینوں کا سہارا حاصل تھا۔ اس کے باوجود مجاہدین نے جس پامردی سے دشمن کا مقابلہ کرکے اسے منہ توڑ جواب دیا وہ فلسطینی عوام کی فتح اور دشمن کی شکست کی دلیل ہے۔ محاذ جنگ میں دشمن کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ ہم نے مذاکرات اور فائر بندی کی شرائط کے میدان میں بھی دشمن کی شرائط تسلیم نہیں کیں بلکہ اپنی شرائط منوائی ہیں۔

ترکی کے وفد سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے ترک حکومت اور عوام کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی اسلامی ملکوں نے فنڈز دیے، بعض نے سیاسی اور ابلاغی حمایت کی لیکن ترکی کے شہریوں نے غزہ کے عوام کے لیے اپنا خون اور مال دونوں دیے ہیں۔ فریڈم فلوٹٰیلا پر اسرائیلی حملے میں نو ترک رضاکاروں کی شہادت دراصل فلسطینی کی آزادی کے لیے قربانی ہے۔ وہ اس عظیم الشان قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آسٹریلوی مفتی اعظم ابراہیم ابو محمد کا کہنا تھا کہ ’’میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ اس وقت میں سرزمین جہاد میں کھڑا ہوں۔ میں اہالیان غزہ کے درمیان ہوں جو دشمن کی جارحیت کا ہمیشہ مقابلہ کرتے اور دشمن کو شکست دیتے رہے ہیں۔ یہ وہ عظیم لوگ ہیں جو طاقتور کو کمزور میں بدلنے کا جذبہ، ہمت اور حوصلہ رکھتے ہیں، میں ان کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں‘‘۔

ترکی کی السعادہ پارٹی کے نائب صدر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین پوری اسلامی دنیا کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس خون کی قیمت جانتے ہیں جو آزادی ، وقار اور دشمن سے اپنے حقوق کے حصول کےلیے بہایا جائے۔ فلسطینی نصف صدی سے زائد عرصے سے آزادی کے لیے اپنا خون پیش کررہے ہیں۔ ان کی جنگ اس لیے بھی مقدس ہے کہ یہ نہ صرف آزاد وطن کے لیے لڑتے ہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے قبلہ اول کی آزادی کے لیے جنگ کرتے ہیں۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.