رپورٹ کے مطابق بیت لحم میں اتوار کو جاری صہیونی فوجی آپریشن میں الدھیشہ پناہ گزین کیمپ پر بھی چھاپہ مارا گیا۔ اس دوران صہیونی فوجیوں نے اسیر فلسطینی احمد یوسف المغربی کی رہائش گاہ، اس کےوالد اور بھائیوں کی رہائش گاہوں پر بھی چھاپے مارے جہاں خواتین اور بچوں کو زدوکوب کیا گیا۔ تلاشی کی اس کارروائی میں اسیر یوسف المغربی کی اہلیہ ھنادی موسیٰ ھماش کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ ھنادی موسیٰ الھماش تین بچوں کی ماں ہیں اور پیشے کے اعتبار سے استانی ہیں۔ ان کے شوہر اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے اہم رہنما ہیں جو سنہ 2002 ء سے صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔ ھنادی کو جب حراست میں لیا گیا اس وقت بھی وہ علیل تھیں۔ اس کے ایک بھائی محمود موسیٰ الھماش بھی جیل میں قید ہیں۔ صہیونی فوجیوں نے تلاشی کی کارروائیوں میں سابق فلسطینی اسیران عدنان الافندی، غسان زواھرہ ور نضال ابو عکر کوبھی خود کوحکام کے حوالے کرنے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ عدنان الافندی 20 سال اسرائیل کی جیلوں میں قید رہ چکے ہیں جب کہ نضال ابو عکر 10 سال تک صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل رہے۔
