مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ہیومن رائیٹس واچ کے بیان پر اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے ہم خیال طلباء گروپ ’’اسلامک بلاک‘‘ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اورہے کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیم نے فلسطینی اتھارٹی اور اس کے سیکیورٹی اداروں کو حقائق سے آگاہ کردیا ہے۔
اتوار کے روز ہیومن رائیٹس واچ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں عباس ملیشیا کے ہاتھوں طلباء کی گرفتاریاں محض سیاسی انتقام کا شاخسانہ ہیں جو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کی جانب سے سیاسی مخالف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کو ایک ایسے وقت میں حراست میں لیا جا رہا ہے جب غرب اردن میں طلباء یونین کے انتخابات میں حماس کے قریب سمجھے جانے والی طلباء تنظیم کو غیرمعمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
دوسری جانب اسلامک بلاک نے اپنے بیان میں ہیومن رائیٹس واچ کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی ادارے نے فلسطینی اتھارٹی کو حقائق سے آگاہ کرکے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس ملیشیا محض سیاسی انتقام کی بنیاد پرطلباء اور نہتے شہریوں کو گرفتار کرکے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں عباس ملیشیا نے مغربی کنارے میں طلباء کے خلاف کریک ڈائون میں دسیوں افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں بیشتر کالجوں اور جامعات کے طلباء تھے۔ یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب دوسری جانب مغربی کنارے میں طلباء یونین کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات میں بھی صدر محمود عباس کی جماعت الفتٓح کے مقرب یوتھ ونگ کو بدترین شکست کا سامنا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
