• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

غرب اردن میں‌ اسرائیل کی کیمیکل فیکٹریاں فلسطینیوں میں ‌موت بانٹنے لگی: رپورٹ

ہفتہ 07-02-2015
in فلسطین
0
plf chemical-factories
0
SHARES
1
VIEWS

فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس اور غرب اردن سمیت کئی شہروں میں اسرائیل کی کیمیکل فیکٹریاں فلسطینیوں میں مہلک امراض پھیلانے، ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ فلسطینی اراضی پر مزید غاصبانہ قبضے کا پرانا صہیونی ہتھکنڈہ ہیں۔

غرب اردن میں‌صہیونی ریاست کی جانب سے درجنوں ایسی فیکٹریاں لگائی گئی ہیں جن کے نکلنے والا زہریلا دھنوا، کیمیکل فاضل مواد اور زہریلی گیسوں کے نتیجے میں حیاتیاتی اور نباتی زندی بری طرح متاثر ہونے لگی ہے۔ اس سلسلے میں غرب اردن کے شمالی شہر طولکرم میں‌ قائم "جیشور” کیمیکل فیکٹر کے مضراثرات سے آس پاس کے فلسطینی شہریوں، ان کے مویشیوں اور نباتات بالخصوص فصلوں اور پھلوں‌ کے باغات کو تباہ کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین نے اپنی ایک رپورٹ میں‌”جیشوری” کیمیائی کارخانے کے تباہ کن اثرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے فلسطینیوں ‌کے جانی و مالی نقصانات پر مبنی ایک رپورٹ تیار کی ہے۔ رپورٹ میں ‌بتایا گیا ہے کہ صرف جیشوری واحد کارخانہ نہیں جو فلسطینی آبادی کے لیے مہلک  گیسوں کے اخراج کا موجب بن رہا ہے بلکہ طولکرم سمیت کئی دوسرے شہروں میں ایسے کئی کارخانے قائم کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق "جیشوری” کارخانے سے نکلنے والے دھوئیں، فاضل مادے اور خطرناک گیسوں کے نتیجے میں  آس پاس کی فلسطینی آبادی میں سانس کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ کینسر اور ٹی بی جیسے امراض بھی جنم لے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت نے سرکاری سطح کیمیائی سامان کی تیاری کے "جیشوری” نامی کارخاکونے کو 1980ء کے وسط میں مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948ء کے علاقوں‌ سے طولکرم کے مغربی علاقے میں منتقل کیا۔ کارخانے کے قیام کے لیے نہ صرف فلسطینیوں کی قیمتی اراضی کو غصب کیا گیا بلکہ اس کارخانے کے قیام سے مقامی فلسطینی آبادی میں کینسر اور ٹی بی جیسے مہلک امراض پھیلانے کا ایک خطرناک اڈا قائم کیا گیا۔
"جیشوری” کیا ہے؟

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "جیشوری” کارخانہ اس کے مالک کے نام سے موسوم ہے کیونکہ اس کارخانے کے مالک کا نام "جیشوری” تھا۔ جیشوری خود فوج میں‌ایک اعلیٰ پر کام کر چکا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے اسرائیلی حکومت کی ہدایت پر کیمیکل اشیا کی تیاری کے لیے ایک کارخانہ قائم کیا،جسے جیشوری فیکٹری کا نام دیا گیا۔ اس فیکٹری کے قبام کے لیے سنہ 1967‌ء‌کی جنگ میں‌قبضے میں لیے گئے طولکرم شہر کی ایک سو ایکڑ اراضی پرقبضہ کیا گیا۔ بعد ازاں فیکٹری کے آس پاس کی فلسطینی اراضی کو اس میں‌شامل کئے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔

مہلک امراض کا موجب

طولکرم بلدیہ کی رپورٹ کے مطابق "جیشوری” کارخانے سے نکلنے والے زہریلے دھوئیں اور گیسوں کے اثرات سے ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مختلف امراض کا شکار ہوئے۔ اب تک متاثرہ فلسطینیوں کی حقیقی تعداد کا علم نہیں‌ہوسکا ہے کہ آیا کتنے افراد اس کارخانے کے نتیجے میں کینسر، ٹی بی، ہیپاٹئٹس سی، پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں۔

طولکرم بلدبیہ کے چیئرمین اسامہ الشیخ ناصر نے”مرکزاطلاعات فلسطین” کوبتایا کہ "جیشور” کوئی واحد کارخانہ نہیں جو فلسطینیوں ‌میں مضرگیسوں کے ذریعے مہلک امراض کے پھیلائو کا موجب بن رہا ہے بلکہ طولکرم میں اس قسم کے 10 کارخانے کام کر رہے ہیں جن سے نکلنے والی زہریلی گیسیں، ہوا، پانی، مٹی، نباتات اور انسانی و حیوانی زندگی کو بری طرح تباہ کر رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں‌نے کہا کہ پچھلے 30 سال کے دوران ایک درجن کے قریب کارخانے لگائے گئے جن میں‌سے بیشتر کیمیائی کارخانے ہیں۔ ان کارخانوں کے نتیجے میں طولکرم کے شہریوں میں سینے کی بیماریاں، سانس، ناک، پھیپھڑوں، کینسر، آنسو اور جلد کی بیماریوں سمیت درجنوں اقسام می کم اور زیادہ خطرناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔

طولکرم کے جنوبی اور اور مغربی علاقے کے میں کیے گئے ایک سروے میں حیران کن  اور نہایت خوفناک نتائج سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کارخانوں کے سے نکلنے والے زہریلے مواد کے باعث بڑی تعداد میں شہری کینسر جیسے جان لیوا مرض کا شکار ہونے لگے ہیں۔

الشیخ ناصر نے بتایا کہ "جیشوری” فیکٹری سے نکلنے والا دھواں بڑی مقدار میں نائٹرجن گیس، کاربن گیس کے علاوہ کئی دوسری اور سریع الاثر گیسیں خارج کرتا ہے جس سے حیوانی اور نباتاتی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں ‌نے کہا کہ ان گیسوں کے اخراج سے متاثر ہونے والے شہریوں کا پہلے تو علاج ممکن نہیں اگر کہیں ان کا علاج ہے بھی تو وہ اندرون ملک نہیں‌ہوسکتا اور اس کے لیے  لاکھوں ڈالر کی رقم درکار ہوتی ہے۔
چیئرمین بلدیہ نے بتایا کہ جیشوری فیکٹری کی وجہ سے فلسطینی شہری اپنے گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں زیادی تربند رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود زہریلی گیسیں، دھواں اور ا ان کے مضر اثرات گھروں کے اندر تک داخل ہو رہے ہیں۔

زہریلا مواد

فلسطینی ماہر ماحولیات اور ڈائریکٹر ماحولیات عصام القسام  نے "مرکز اطلاعات فلسطین” سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طولکرم میں اسرائیل نے 10 ایسے کارخانے قائم کر رکھے ہیں جن سے دن رات غیرمعمولی مقدار میں زہریلا مواد شائع ہوتا ہے۔ انہوں ‌نے بتایا کہ ان کارخانوں‌ میں کپڑے، جوتے، چمڑے کا سامان، پانی کے ٹینک اور اس نوعیت کی درجنوں اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ کارخانوں میں کام کرنے والے یہودیوں کے تحفظ کے لیے ہرقسم کا انتظام موجود ہے مگر فلسطینی شہری ان کے مضراثرات سے بری طرح‌متاثر ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹرعصام نے بتایا کہ اسرائیل کے قائم کردہ کیمیکل کارخانوں‌کے  متاثر ہونے والے شہریوں کے کئی بار ٹیسٹ لیے گئے۔ تحقیقات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ طولکرم کا ہر دوسرا فرد ان مہلک گیسوں‌ سے براہ راست  یا بالواسطہ طور پر متاثر ہواہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ عالمی قوانین کے تحت اسرائیل کیمیائی کارخانوں سے نکلنے والے فاضل مواد کو زمین کی گہرائی میں دبانے کا پابند ہے لیکن طولکرم اور فلسطین کے دوسرے شہروں میں قائم کارخانوں کے حوالے سے ایسے کسی قانون کی پابندی نہیں کی جاتی ہے۔

اسرائیل نے یہ اعلام کررکھا تھا کہ وہ طولکرم کے کارخانوں سے نکلنے والے فاضل مادے کو اسرائیلی علاقوں میں لے جا کر تلف کرے گا لیکن ایسا نہیں کیا جاتا بلکہ زہریلا فاضل مادہ فلسطینیوں ‌کے کھیتوں اور آبادیوں کے درمیان پھینک دیا جاتا ہے۔

اسرائیل کی کیمیکل فیکٹریوں کے نتیجے میں ‌فلسطینی ماحولیات پر پڑنے والے اس کے اثرات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر قاسم نے کہا کہ زہریلے مواد کے باعث فضاء، زمین، فصلیں، پھل دار پودے، مویشی، انسان، حیوان اور پانی سب براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ فیکٹریوں سے نکلنے والے سائل فاضل مادے کے زمین میں سرایت کرنے سے پینے کا صاف پانی بھی آلودہ ہو رہا ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.