مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یہودی انتہا پسند گروپوں نے ’’عید الفصح‘‘ کی آڑ میں یہودیوں میں قبلہ اول کو یہودیانے کی سازشوں کی ترویج شروع کی ہے۔ یہودی گروپوں کا مقصد محض یہودیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد میں مسجد اقصیٰ میں جمع کرنا اور تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات کی ادائی کو یقینی بنانا نہیں بلکہ در پردہ یہودی گروپ اس تہوار کی آڑ میں قبلہ اول کے خلاف اپنے مذموم عزائم کو آگے بڑھانے کی سازشیں کررہے ہیں۔
قبلہ اول کی جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے سرگرم’’اتحاد تنظیم ہیکل‘‘ کی جانب سے یہودی آباد کاروں میں ایک فارم تقسیم کیا گیا ہے جس میں عید الفصح کے موقع پر مسجد اقصیٰ پر یلغار کرنے کے لیے ان کی حمایت حاصل کرتے ہوئے ان کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں جمع کرکے مقدس مقام کو یہودیانے کی سازشوں کو آگے بڑھایا جاسکے۔
مذکورہ فارم میں مسجد اقصیٰ میں داخلے کے اوقات، طریقہ کار اور واپسی کے اوقات کی بھی تفصیلات درج ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ یہودیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کے وقت پولیس اور فوج انہیں فول پروف سیکیورٹی مہیا کریں گے۔ تمام یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کے راستے اندر جانا اور اسی راستے سے واپس آنا ہوگا۔
اسی گروپ کی جانب سے ایک مختصر دستاویزی فلم بھی جاری کی گئی ہے جس میں مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کے عبرانی سال نو کے موقع پر ہونے والی سرگرمیوں کی تفصیلات کا تذکرہ ہے۔ اس کے علاوہ سال بھر میں یہودیوں کی مذہبی تقریبات، مذہبی تہوار اور اہم ایام میں ہونے والی سرگرمیوں کی بھی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں یہودیوں کے ہاں مقدس تہوار’’عیدالفصح‘‘ کے دوران ہونے والے مشاغل کا بھی مفصل طریقہ کار درج ہے۔
مسجدا قصیٰ کی تعمیرو مرمت کے ذمہ دار ادارے’’اقصیٰ فائونڈیشن و ٹراسٹ‘‘ کے ڈائریکٹر انجینیر امیر الخطیب کا کہنا ہے کہ انتہا پسند یہودی تنظیموں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کو یہودیانے کی سازشیں سال بھر جاری رہتی ہیں۔ اس مذموم مقصد کے لیے یہودی تنظیمیں ہر وہ حربہ استعمال کرتی ہیں جو ان کے بس میں ہوتا ہے۔ یہودیوں کو گمراہ کرنے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخ مسخ کرنے کے لیے جعلی پروپیگنڈہ مہم اور خرافات پر مبنی مذہبی تعلیمات کا بھی سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ قدامت پسند یہودیوں کے لیے زیادہ متاثر کن ثابت ہوتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
