مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی کے معاشی محاصرے کے اثرات کم کرنے کے لیے سرگرم ادارے کے سربراہ عصام یوسف کا کہنا ہے کہ انہوں نے لندن اور برطانیہ کے دوسرے شہروں میں "محصورین غزہ کے لیے قربانی دیجیے” کے عنوان سے ایک کامیاب مہم شروع کی ہے جس میں برطانیہ میں مقیم فلسطینی، مسلمان، عرب ملکوں کے شہری اور مقامی اہل خیر حضرات بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہےہیں۔
لندن میں نیوز کانفرنس کے دوران عصام یوسف نے کہا کہ ان کا مشن غزہ کے محصورین، یتمیوں، بیوائوں اور دیگر ضرورت مندوں کی عیدالاضحیٰ کے موقع پر مدد کرنا اور اپنی خوشیوں میں انہیں بھی شامل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مخیرحضرات کی جانب سے ان کی مہم میں بھرپور حصہ ڈالا جا رہا ہے۔ برطانیہ کے عوام فلسطینی محصورین بچوں کی مشکلات کا احساس رکھتے ہیں اور ان کی مشکلات کم کرنےمیں ان کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔
عصام یوسف نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور فلاحی اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ عیدالاضحی ٰ کے موقع پر محصورین غزہ کی امداد کے لیے اپنے طورپر مہمات چلائیں تاکہ محاصرے کی مصیبت میں پھنسے فلسطینیوں کی مشکلات کم کرنے میں ان کی مدد کی جاسکے۔
خیال رہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیل نے سنہ 2006 ء کے بعد سے معاشی پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ معاشی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی پر صہیونی ریاست کی بار بار مسلط کی گئی جنگوں نے دو ملین سے زائد آبادی کو سنگین مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔
