مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کے ایک عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ ہفتے کے روز عمان میں اتھارٹی اور اسرائیل کے رہنماؤں کے مابین ہونے والی تیسری ملاقات میں کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
عہدیدار کے مطابق اس ملاقات کےدوران فریقین کے مابین اختلافات کی خلیج کافی گہری دکھائی دی۔
فلسطینی اتھارٹی کے اعلی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا اسرائیل نے اس ملاقات میں کوئی نئی پیشکش نہیں کی اور اس نے مذاکرات بحال کرنے کی خاطر اپنے پرانے سخت گیر موقف سے ذرہ بھر پیچے ہٹنا گوارا نہ کیا۔
خیال رہے کہ ہفتے کے روز فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی حکومت کے ترجمانوں نے عمان میں تیسری ملاقات کی تھی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ستمبر 2010 سے فریقین کے مابین تعطل کے شکار مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہے۔
اس ملاقات میں اردن کے وزیر خارجہ ناصر جودہ کی موجودگی میں اتھارٹی کے وفد کی سربراہی صائب عریقات کر رہے تھے۔ اسرائیل کی نمائندگی اسحقمولخو کی سربراہی میں ایک وفد کر رہا تھا۔
فریقین نے اس ماہ کی پچیس تاریخ کو دوبارہ ملاقات کا اعلان کیا ہے۔ یہ تاریخ گروپ چار کی جانب سے فلسطینیوں کو مذاکرات جاری رکھنے یا ختم کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن کے روز بعد کی ہے۔ خیال رہے کہ اس ماہ کے شروع سے اردن نے فلسطین اور اسرائیل کے مابین سولہ ماہ سے منجمد براہ راست مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا اور اس سلسلے میں فریقین اب تک تین ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

