فرانسیسی صدر نیکولا سارکوزی نے قطر کے مفتی اعظم اور عالمی علماء کونسل کے چیئرمین شیخ یوسف القرضاوی کو اپنے ملک میں داخلے سے روک دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یوسف القرضاوی شدت پسند خیالات کو فروغ دے رہے ہیں
اور ان کے لیے فرانس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ دوسری جانب عرب اور اسلامی ممالک میں عوامی سطح پر فرانس کے اس فیصلے پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صدر سارکوزی کے معاون خصوصی "ھنری جویانو” نے بھی یوسف القرضاوی کے دورہ فرانس کی مخالفت کی اور کہا کہ صدر نے ہدایت کی ہے کہ شیخ یوسف القرضاوی کو فرانس میں داخلے سے روک دیا جائے۔ خیال رہے کہ شیخ القرضاوی فرانس میں ایک اسلامی تنظیم کی جانب سے اپنی تقریب میں مدعو کیا تھا، جس کے لیے شیخ یوسف القرضاوی نے چار اپریل کو پیرس آنے کا اعلان کیا تھا۔
فرانسیسی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے ھنری جویانو کا کہنا تھا کہ حکومت شیخ یوسف القرضاوی کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا شخص جو انتہا پسندوں کی حمایت کرتا ہو اسے فرانس جیسے ملک کا ویزہ نہیں دیا جا سکتا۔
خیال رہے کہ شیخ یوسف القرضاوی قطر اور مصر کی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ فرانسیسی حکومت نے انہیں ایک دینی تقریب میں شرکت کا موقع نہ دے کر اسلام دشمنی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ فرانسیسی حکومت کی جانب سے شیخ یوسف القرضاوی کے بارے میں اختیار کردہ موقف پر عوامی حلقوں میں سخت برہمی پائی جا رہی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر فرانس کے فیصلے کو”انتہا پسندانہ” اور اسلام دشمنی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

