فلسطین میں یہودی توسیع پسندی اور دیوار فاصل کے خلاف قائم کردہ کمیٹی کے چیئرمین حمدی ذیاب نے بتایا کہ ’’عظیم تربیت المقدس‘‘ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے القدس کا تین اطراف سے گھیراؤ کیا جا رہا ہے کہ ان کالونیوں میں وسیع پیمانے پر تعمیرات اور بڑی تعداد میں یہودیوں کو آباد کرکے گریٹر القدس کے منصوبے کو عملی شکل دی جاسکے۔
رپورٹ کے مطابق حمدی ابو دیاب نے بتایا کہ تین بڑی کالونیوں جن کے ذریعے القدس کا گھیراؤ کیا جا رہا ہے میں جنوبی بیت المقدس سے ’’کفار عتصیون‘‘، مشرقی بیت المقدس سے معالیہ ادومیم اور تیسری سمت سے E1 سیکٹرکی طرف سے القدس کا گھیراؤ شامل ہے۔ اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے اسرائیل نے بیت المقدس کے مشرقی قصبوں شعفاط کیمپم الرام، البرید، بیرنبالا، الجیب، العیزریہ اور ابو دیس سمیت کئی دوسرے قصبوں کی فلسطینی آبادی کو وہاں سے نکال کران تینوں بلاکوں میں چارلاکھ یہودیوں کو آباد کرنا ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا ہے بیت المقدس کے اندر النبی یعقوب، جعفات زئیف رمات شلومو، تلہ الفرنسیہ، راموت، جبل ابو غنیم، جیلو نمبر 1 تا 4 میں بھی یہودی آباد کاروں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ تاکہ وہاں پرموجود فلسطینی آبادی کو اقلیت اور یہودیوں کو اکثریت میں تبدیل کیا جائے۔
ابو ذیاب کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے اس سے قبل یہودی آباد کاری کی توسع بالخصوص القدس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو سڑکوں کے ذریعے ملانے کے لیے 12 ہزار 900 ایکڑ رقبے پرقبضے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
