مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "القدس ٹیلی ویژن” کی خاتون نامہ نگار لندا شلش تقریب میں پہچنیں تاکہ اس کی براہ راست کوریج کرسکیں لیکن وہاں پر متعین نام نہاد سیکیورٹی فورسز نے لندا کو کھینچ کر باہر نکال دیا جبکہ اسی تقریب کی کوریج اسرائیل کے کئی ٹی وی چینلوں کے نامہ نگار بھی کررہے تھے۔ اسرائیلی صحافیوں کو ہر قسم کی سیکیورٹی مہیا کی گئی تھی جبکہ فلسطینی ٹی وی کی نامہ نگار کو اندر داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
لندا شلشل نے مقامی خبر رساں ایجنسی "صفا” سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میںنے رام اللہ میں یاسرعرفات کی برسی کی تقریب میں شرکت کی کوشش کی لیکن مجھے وہاں سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد میں قریب ہی "بال میڈیا” کی عمارت کی چھت پر آئی تاکہ وہاں سے براہ راست کوریج کر سکوں لیکن عباس ملیشیا کے اہلکار وہاں بھی آدھمکے۔ مجھ سے مائیکرو فون چھین لیا اور کہا کہ آپ کو یہاں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے لندا شلش سے اس کا مائیک لینے کے بعد اس کے ساتھی کیمرہ مین کو بھی تصویر اتارنے اور ویڈیو فوٹیج بنانے سے سختی سے روک دیا۔ تاہم بعد ازاں اس کا مائیک اسے واپس دے دیا۔
شلش نے استفسار کیا کہ اگر اسرائیلی ٹی وی کے نامہ نگار یاسرعرفات کی برسی کی تقریب کی کوریج کرسکتے ہیں تو اسے کیوں کر روکا گیا ہے؟۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
