اسرائیلی حکومت کے لیگل ایڈوائزر نے اسرائیلی پولیس کو عرب ممبران کنیسٹ حنین زعبی اور باسل غطاس سے تفتیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان دونوں ممبران کنیسٹ پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فوج میں عیسائی لڑکوں کی بھرتی کی حوصلہ افزائی کرنے والے ریورینڈ جبرائیل نداف کے خلاف لوگوں کو اکسایا ہے۔
عبرانی ذرائع نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ایک کنیسٹ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے پولیس کے نمائندے نے انکشاف کیا ہے کہ اٹارنی جنرل یھودا وینسٹین نے پولیس کو ممبران کنیسٹ سے ریورینڈ جبرائیل نداف کے خلاف جذبات کو ابھارنے کے الزام کی تفتیش کی اجازت دے دی ہے۔
ممبر کنیسٹ ریجیف نے نداف کے ساتھ حمایت کا اظہار کیا اور بتایا کہ ان کو پولیس کی گارد فراہم کردی گئی ہے۔
اس واقع سے متعلق سیباسٹیہ کے یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے آرچ بشپ، بشپ عطااللہ حنا نے اسرائیلی فوج میں عیسائی لڑکوں کی بھرتی کی کسی بھی کوشش کو دوبارہ مسترد کردیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
