مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق قاہرہ میں عرب لیگ کے صدر دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینی خواتین کےساتھ کھلے عام غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کی صریح خلاف خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
ملک کے دیگر شہریوں کی طرح خواتین کو بھی صنفی امتیاز کا سامنا ہے اور صہیونی ریاست دانستہ طور پر فلسطینی خواتین کے حقوق کی پامالی کر رہی ہے۔ بیان میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل پر فلسطینی خواتین پر مظالم ڈھائے جانے کا سلسلہ روکنے کے لیے دبائو ڈالیں اور خواتین کے ساتھ ہرقسم کے امتیازی سلوک کا تدارک کرائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی ریاست کی طرف سے فلسطینی خواتین کو بھی شہریت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ خواتین کے حوالے سے عدم مساوات پر مبنی قوانین وضع کیے جا رہے ہیں جن کے نتیجے میں فلسطینی خواتین کو دوسرے اور تیسرے درجے کا شہری قرار دینے کی سازش کی جا رہی ہے۔ یہ طرز عمل نہایت تباہ کن اور خطرناک نتائج کا حامل ثابت ہو رہا ہے۔
عرب لیگ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری شورش کے پس پردہ غیر منصفانہ طبقاتی تقسیم کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ تنظیم نے عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے ہاں خواتین کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کریں اور طبقاتی تقسیم کا خاتمہ یقینی بناتے ہوئے انسانی حقوق کی عمل داری کرائیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
