عراق کے ایک عقوبت خانے میں زیرحراست ایک فلسطینی 30 سالہ عماد عبدالسلام ابو ربیع عراقی تفتیش کاروں کے بہیمانہ تشدد کے باعث شہید ہو گیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عماد عبدالسلام کی موت کی تصدیق تین روز قبل ہوئی تھی۔ مقتول کا تعلق فلسطینی شہرغزہ کی پٹی کے البریج مہاجر کیمپ سے بتایا جاتا ہے۔
ادھر فلسطینی خبررساں ایجنسی "الصفا” کی رپورٹ کے مطابق عماد عبدالسلام گذشتہ تیس سال سے جنوبی بغداد میں الدورہ کے مقام پر رہائش پذیرتھا۔ اسے کئی روز قبل سیکیورٹی فورسزنے حراست میں لیا تھا۔
حراست میں وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں محروس کی حالت خراب ہونے کے بعد اسے دارالحکومت میں العدلی میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر جام شہادت نوش کر گیا۔ اس کے جسم پر وحشیانہ تشدد کے واضح نشانات دکھائی دیتے ہیں۔
ابوربیع کی میت پیر کے روز الدورہ کے مقام پر اس کے خاندان کی حوالے کی گئی۔ ادھر غزہ کی پٹی میں بھی مقتول کے سوگوار خاندان میں شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی، جنہوں نےابو ربیع کے ماوراء عدالت بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی اورعراقی حکومت سے واقعے کی آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عراق اور فلسطین کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے عماد عبدالسلام ابوربیع کی زیرحراست تشدد کے باعث ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی عراقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بتائے کہ عبدالسلام کو کس جرم کی پاداش میں تشدد کر کے مارا گیا ہے۔

