مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اپنی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والی تنظیموں کے فنڈز روکنے اور ان کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
ان کو یہ سزا مہنگائی اور سلام فیاض حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں ملی۔
فلسطینی پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل بسام صالحی نے فنڈز کو روکنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مہنگاہی کیخلاف مظاہروں میں شرکت کرنے والی تنظیمیں گزشتہ ماہ کے مختص فنڈز سے کوئی رقم حاصل نہ کر سکی ہیں۔ اپنے بیان میں بسام صالحی نے ان تنظیموں کے حکومت کے خلاف مظاہروں میں شرکت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ ان کی تنظیم قنڈز روکنے کی اپنی پالیسی جاری رکھے گی۔
’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے ذرائع نے بتایا کہ تنظیم آزادی فلسطین میں شریک جماعتوں کے فنڈز روکنے کا حکم صدر محمود عباس نے دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ صدر اس وقت ان تنظیموں کی احتجاج میں شرکت سے شدید غصے میں ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ محمود عباس نے تنظیم آزادی فلسطین میں شریک جماعتوں کے رہنماؤں سے ایک خصوصی ملاقات بھی کی ہے جس میں انہوں نے ان رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج کے پیچھے حماس ہے چنانچہ ان مظاہروں میں شرکت نہ کی جائے۔
عباس نے فلسطینی آزادی کے لیے متحرک ان تنظیموں پر واضح کردیا کہ انہیں یا تو حکومت کے ساتھ ہونا ہوگا یا اس کے خلاف۔ عباس نے باور کروایا کہ فتح کی حکومت کے خلاف احتجاج میں شرکت کی پاداش میں ان کے فنڈز روک لیے گئے ہیں۔
