رپورٹ کے مطابق فلسطینی اسیران کے اہل خانہ پر مشتمل کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کے ہاتھوں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ اور دوسری مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ ماہ حماس کے رہنماؤں اور کارکنوں سمیت درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا۔
منگل کے روز پریس کو جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب فلسطین میں صہیونی ریاست کے مظالم کے خلاف فلسطینی عوام کی تحریک انتفاضہ پانچویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے۔ عباس ملیشیا کی قوم دشمن کارروائیوں کے نتیجے میں غرب اردن میں فلسطینیوں کو دبانے اور تحریک انتفاضہ کچلنے میں اسرائیلی دشمن کی مدد کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عباس ملیشیا نے جنوری میں مجموعی طورپر 93 شہریوں کو حراست میں لیا۔ ان میں سب سے زیادہ گرفتاریاں طولکرم سے کی گئیں جہاں سے 22 شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ الخلیل سے 14 ، نابلس سے 12 ، سلفیت اور طوباس سے 11 ، قلقیلیہ سے 8 ، جنین سے 6 بیت لحم سے پانچ ور رام اللہ سے چار فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔
