مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عباس ملیشیا نے جمعہ کی صبح سے ہفتے کی رات تک مغربی کنارے کے کئی شہروں میں حماس کے دفاتر پر چھاپے مارے اور ایک درجن کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس حکام نے طولکرم میں ایک کارروائی میں سماجی کارکن ریاض بدیر کو اس کی دکان سے اٹھا کر حراست مرکز منتقل کر دیا۔
ادھر مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں سیاسی جماعتوں کےخلاف عباس ملیشیا کے کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی جاری ہیں۔ گذشتہ روز طولکرم میں خواتین کی ایک احتجاجی ریلی پر عباس ملیشیا کے غنڈوں نے وحشیانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں کئی خواتین زخمی ہوئی ہیں۔ یہ ریلی سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج اور اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل بھوک ہڑتالی اسیران سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالی گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق نابلس میں عباس ملیشیا نے ایک کارروائی میں الشریعہ کالج کے ایک طالب علم عمر ندی کو اس کے گھر پرچھاپے کے دوران حراست میں لے لیا۔ عباس ملیشیا نے الخلیل شہر میں چھاپوں کے دوران سابق اسیر احمد محمد الحروب کو گرفتار کر لیا۔ احمد کو اسرائیلی جیل سے رہا ہوئے ابھی فقط دس دن گذرے تھے۔
