فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی فورسزکی جانب سے صہیونی دشمن کے فوجی قبضے کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھے جانے والے رہ نماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
ہفتے کے روز عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے جنین کے ایک مہاجرکیمپ میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے مقامی اسیر رہنما الشیخ جمال ابو الھیجا اور اسلامی جہاد محمود السعدی کے گھروں پر چھاپے مارے۔ گھروں میں موجودخواتین اور بچوں کو زدو کوب کیا اور قیمتی اشیاء کی توڑ پھوڑ کی گئی۔ ادھر الخلیل شہر میں عباس ملیشیا نے ایک شہری کے مکان پر چھاپہ مارا، اہل خانہ نے بتایا کہ جس شخص کی تلاش کے لیے چھاپہ مارا گیا ہے وہ پہلے ہی اسرائیلی جیل میں قید ہے۔ اس کے بعد عباس ملیشیا نے اسے اشتہاری قرار دیتے ہوئے خود کو عباس ملیشیا کے حکام کے حوالے کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے ہفتے کے روز جنین میں حماس کے اسرائیلی جیلوں میں قید رہ نماؤں الشیخ جمال ابو الھیجا اور اور اسلامی جہاد کے لیڈر الشیخ محمود السعدی کے گھروں پر چھاپے مارے۔ عینی شاہدین کے مطابق عباس ملیشیا کے اہلکاروں اور مقامی شہریوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مشتعل افراد نے عباس ملیشیا کی گشتی پارٹی پرحملہ کیا۔ جواب سیکیورٹٰی اہلکاروں نے مظاہرین پر اشک آور گیس کی شیلنگ کی اوربھاری آواز پیدا کرنے والے بم استعمال کیے۔
خیال رہے کہ حماس رہ نما الشیخ جمال ابو الھیجا سنہ 2002 ء کے بعد سے صہیونی جیل میں پابند سلاسل ہیں۔ انہیں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ سے تعلق کے الزام میں نو مرتبہ عمرقید کی سزا کا سامنا ہے۔
مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلامی جہاد کے رہ نما محمود السعدی کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا گیا تھا تاہم پولیس انہیں حراست میں لینے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
