(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے ماتحت سرگرم فلسطینی پولیس نے ممتاز دانشور اور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار قاسم کو نابلس شہر میں قائم ان کے دفتر سے حراست میں لے لیا۔ دوسری جانب فلسطین کی مذہبی ،سیاسی جماعتوں
اور عوامی حلقوں کی جانب سے ڈاکٹر قاسم کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔
فلسطینی دانشور ڈاکٹر قاسم کی اہلیہ نے بتایا کہ منگل کو عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے ڈاکٹر قاسم کے گھر سے متصل دفتر کا گھیراؤ کیا۔ اس وقت ڈاکٹر قاسم اپنے دفتر میں موجود تھے۔ عباس ملیشیا کے غنڈوں نے دفتر میں قیمتی سامان کی توڑپھوڑ کی۔ بعد ازاں وہ ڈاکٹر پروفیسر عبدالستارقاسم کو حراست میں لے کرچلے گئے۔
اہلیہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے شوہر سے ان کے ٹیلیفون پر بات کرنے کی کوشش کی مگران کے موبائل سے کوئی جواب نہیں مل سکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے اپنے شوہر کی گرفتاری کا علم گھر لوٹنے کے بعد اس وقت ہوا جب میں نے گھر میں لگے سی سی ٹی کیمروں کی فوٹیج دیکھی جس میں عباس ملیشیا کے اہلکاروں کے ہاتھوں پروفیسر عبدالستار قاسم کی گرفتاری کا منظر ریکارڈ ہوچکا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر قاسم کی گرفتاری کے حوالے سے میں نے فلسطینی پولیس سے رابطہ کیا اور ان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات کے حصول کی کوشش کی مگر مجھے ان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر عبدالستار قاسم کوایک ایسے وقت میں حراست میں لیا گیا ہے جب حال ہی میں تحریک فتح کے حامی میڈیا نے ان کے خلاف ایک شرانگیز مہم برپا کررکھی تھی۔ القدس ٹی وی چینل پرنشر ہونے والے ان کے ایک بیان کو غلط انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر القاسم فلسطینی اتھارٹی کے خلاف عوام کو بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔ فتحاوی قیادت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر قاسم صدر محمود عباس اور اہم سیکیورٹی اداروں کے سینیر عہدیداروں کے قتل کی ترغیب دے رہے ہیں۔
دوسری جانب اسلامی تحریک مزحمت ’’حماس‘‘، اسلامی جہاد اور عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے ڈاکٹر قاسم کی گرفتاری کو آزادی اظہار رائے پرفلسطینی اتھارٹی کا براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔حماس کے سیاسی شعبے کے رکن عزت الرشق نے کہا ہے کہ صہیونی دشمن کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کرنے والی فلسطینی اتھارٹی اور اس کی پولیس سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ حقائق کو قوم کے سامنے پیش کرنے والوں کا منہ بند کرنے کے لیے طاقت کا ہر حربہ استعمال کریں گے۔
