فلسطینی اتھارٹی کے خفیہ اداروں نے طلبہ تنظیم "اسلامک بلاک” سے وابستہ تین طلبا کو رہا کرنے سے انکار کر دیا ہے. ان طلبہ نے اپنی رہائی کے لئے بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔
قبل ازیں سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس حکام نے بھوک ہڑتالی طلبہ کو پیشکش کی تھی اگر وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں تو انہیں رہا کردیا جائے گا۔ اس پیشکش کے جواب میں اسیر طلبہ نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا مگر بعد میں عباس انتظامیہ نے انہیں رہا کرنے سے انکار کردیا ہے۔
یاد رہے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی حامی طلبا تنظیم "اسلامک بلاک” کے ایک سو سے زائد کارکنوں نے رام اللہ میں بیرزیت یونیورسٹی کے سامنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے احتجاجی کیمپ لگایا تھا جہاں اسیر طلبا سے اظہار یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی گئی تھی۔
جامعہ بیرزیت میں کے طلبہ تنظیم "اسلامک بلاک” کے ایک مرکزی عہدیدار نے بتایا کہ عباس ملیشیا نے گذشتہ روز ان کے تین زیر حراست بھوک ہڑتالی ساتھیوں کے وکیل عبداللہ مصلح کے ذریعے بتایا تھا کہ اس کے مٶکلوں محمد القدومی، صہیب ربیع، اور معتصم باللہ عمر کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اسیران ایک ہفتے سے جاری بھوک ہڑتال ختم کردیں۔
اسلامک بلاک کے عہدیدار نے بتایا کہ ان کی تنظیم کے تقریباً ایک سو سے زائد ساتھیوں نے یونیورسٹی کے باہر اپنے تینوں ساتھیوں کی رہائی کے لیے دھرنا دے رکھا ہے. دھرنے میں شریک بعض طلبا نے بھوک ہڑتال بھی کر رکھی ہے۔ اسلامک بلاک کے رہ نما نے رام اللہ سیکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ساتھیوں کو فوری طورپر رہا کرے ورنہ ان کے احتجاج کا دائرہ دوسرے شہروں میں بھی پھیل سکتا ہے۔
خیال رہے کہ عباس ملیشیا نے اسلامک بلاک سے وابستہ طلبا کو کئی روز پہلے بیرزیت یونیورسٹی کے ہاسٹل سے چھاپوں کے دوران حراست میں لیا تھا۔ زیرحراست طلبا پر تاحال کوئی مقدمہ بھی قائم نہیں کیا گیا۔ محض شبے کی بنیاد پر انہیں حراست میں رکھنے پر طلباء سراپا احتجاج ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
