رپورٹ کے مطابق بھوک ہڑتالی صحافی محمد القیق کے وکیل اشرف ابو سنینہ نے بتایا کہ اسرائیلی سپریم کورٹ کی جانب سے القیق کی رہائی کی درخواست مسترد ہونے کے بعد القیق نے کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔ بھوک ہڑتالی صحافی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موقف پرقائم ہے۔ باعزت رہائی یا شہادت تک بھوک ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔ اشرف ابو سینینہ نے بتایا کہ اس کے موکل کی طبی حالت نہایت تشویشناک ہے اور وہ بیشتر اوقات کومے میں رہتا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی بھوک ہڑتالی صحافی کے حق میں عالمی سطح پر بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ عالمی علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل الشیخ علی القرا داغی نے القیق کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھوک ہڑتالی محمد القیق کے ساتھ کھڑے ہوں اور اسرائیل پر اس کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں۔
الشیخ داغی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی نامہ نگار محمد القیق کو غیر مشروط طورپر فوری رہا کرنے کا اعلان کرے تاکہ اس کی زندگی کو لاحق خطرات سے اسے بچایا جاسکے۔
اپنے ایک بیان میں الشیخ القرہ داغی نے کہا کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں فلسطینی قیدیوں پر تشدد اسرائیلی دہشت گردوں کا وطیرہ ہے۔ ایک فلسطینی صحافی کی طویل بھوک ہڑتال پر اسرائیلی ریاست کی ہٹ دھرمی انسانی آزادیوں اور زندہ ضمیر لوگوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ اسرائیلی کسی قانون ، ضابطہ اخلاق اور عالمی اصول کی پابندی نہیں کرتا۔
