اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کے عرب رکن احمد الطیبی کا کہنا ہے کہ 48ء کے مقبوضہ فلسطین میں ”قیمت چکانے” کے عنوان سے انتہاء پسند یہودیوں کے فلسطینیوں اور ان کے املاک پر حملوں کو اسرائیلی حکمراں اتحاد کے نسل پرستانہ قوانین کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
احمد الطیبی نے بدھ کے روز بیجنگ میں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے اسرائیل میں عرب اقلیتوں پر ہونے والے مظالم پر شدید تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے عرب اقلیتوں کے خلاف نسلی امتیاز پر مبنی پالیسی جاری ہے اور وہاں پر عربوں کو مساوی شہری حقوق حاصل نہیں ہے۔ ہم اقوام متحدہ کی تمام تنظیموں اور اس کے تمام رکن ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ عرب اقلیت کو مساوی حقوق دے اور ان کے خلاف جاری امتیازی کارروائیوں کا سلسلہ ختم کرے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے عربوں کے خلاف امتیازی قوانین اور تجاویز کا ایسا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس سے فلسطینیوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ ان قوانین میں فوجی خدمات کا قانون، یہودی ریاست کی تعریف کی فوقیت دینے کا قانون اور عربی زبان کے بطور سرکاری زبان کے خاتمے کے قوانین سرفہرست ہیں۔
احمد الطیبی نے بتایا کہ عرب فلسطینیوں کے خلاف خطرناک ترین منصوبوں میں سے ایک پریفر منصوبہ ہے جس کے ذریعے ہزاروں فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کر کے نقب کی ہزاروں ایک اراضی ہتھیا لی جائے گی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
