قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ روز دوپہر کے وقت الخلیل کے جنوب میں یطہ قصبے پر دھاوا بول دیا اور وہاں پر سابق اسیر خالد مخامرہ کے گھر کی تلاشی لی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی فوج نے یطہ کے شمالی راستے کی جانب سے دھاوا بولا اور سابق اسیر مخامرہ کے گھر کا گھیرائو کر لیا اور اس کی تلاشی لی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس چھاپے کے دوران اسرائیلی فوج مخامرہ کے بھائی ابراہیم کو ساتھ لے کر آئے تھے۔ ابراہیم کو دو ہفتے سے زائد عرصے سے عسقلان تفتیشی مرکز میں قید رکھا گیا ہے۔ پچھلے دو سالوں کے دوران صیہونی فوج نے متعدد بار مخامرہ کے گھر پر چھاپے مارے ہیں۔
ان چھاپوں کے بعد اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی نوجوانوں کے درمیان تصادم کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے نیتجے میں فلسطینی لڑکا زکریہ ابو عرام جاں بحق ہو گیا اور دیگر کئ نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ خالد مخامرہ کو بھی کئی مرتبہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے عتصیون میں موجود مرکزی دفاتر میں طلب کیا گیا ہے۔
خالد مخامرہ کو اسرائیلی عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے اپنی سزا میں سے چھ سال اسرائیلی قید میں گزارے تھے اور اس کے بعد اکتوبر 2011ء میں انہیں وفا الاحرار معاہدے کے نتیجے میں رہا ک دیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
