رپورٹ کے مطابق مقامی فلسطینی ذرائع کے مطابق گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے فلسطین میں جاری تحریک انتفاضہ کےدوران یہ اب تک کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن ہے، جس میں غرب اردن کے کئی شہروں میں شروع کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نےسوموار کے روز علی الصباح مغربی کنارے کےشہروں الخلیل، رام اللہ، نابلس ، بیت لحم اور دوسرے مقامات پر گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کیا۔ تلاشی کی کارروائیوں میں نابلس کے جنوبی قصبے عراق بورین سے ایک کم عمربچے سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ نماز فجر کے وقت اسرائیلی فوج کی کوئی پانچ گاڑیوں نے عراق بورین قصبے کامحاصرہ کیا اور قصبے کے تمام داخلی اور خارجی راستے بند کرنے کے بعد گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا۔
صہیونی فوجیوں ے حسام عاھد الفقیہ نامی شہری کے گھر پرچھاپے کے دوران اس کا کم عمر بیٹا منذر اسماعیل قادوس گرفتار کرلیا۔
اس کے بعد ایک دوسرے فلسطینی لڑکے عبداللہ منذر قادوس کو بھی گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
تلاشی کی دوسری کارروائیوں میں نابلس سے 18 سالہ احمد محمود مرار، 17 سالہ قصی حایس مرار، بیت لحم سے سلطی احمد ثوابتہ، قباطیہ سے محمد کمیل، ناجح ابو الرب، احمد زکارنہ نامی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ دیگر شہروں الخلیل، رام اللہ سے بھی اسرائیلی فوجیوں نے متعدد فلسطینیوں کو گھروں سے اٹھا کر نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا ہے۔
الخلیل شہر میں اسرائیلی فوجیوں نے سابق اسیر ایمن عبداللہ کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اس کے علاوہ شہید عبداللہ العجلونی کے گھر پربھی چھاپہ مارا گیا۔ تلاشی کی کارروائیوں میں گھروں میں توڑپھوڑ کے ساتھ ساتھ نقدی اور زیوارت بھی لوٹ لیےگئے۔
