(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کے شہریوں کی غرب اردن اور وہاں سے بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے لیے آنے پرپابندی عائد کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آج جمعرات کے روز شمالی غزہ سے غرب اردن کو ملانے والی ’’اریز‘‘گذرگاہ سے کسی بھی فلسطینی کو کل نماز جمعہ کے لیے داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔خیال رہے کہ غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے شہر جو نماز جمعہ قبلہ اوّل میں ادا کرنا چاہتے ہیں ایک روز قبل ہی گذرگاہ پراپنی رجسٹریشن کراتے ہیں جس کے بعد اگلے روز انہیں مغربی کنارے اور بیت المقدس کے سفرکی اجازت دی جاتی ہے۔
فلسطینی وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ انہیں اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نماز جمعہ کے لیے قبلہ اوّل میں آنے والے فلسطینیوں کوغرب اردن اور بیت المقدس میں داخل ہونےسے روک دیا گیا ہے تاہم صہیونی حکام کی جانب سے اس کی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
نماز جمعہ کے علاوہ بھی غزہ کی پٹی سے شہری نمازوں کی ادائیگی کے لیے مسجد اقصیٰ میں جاتے رہتے ہیں مگران کے سفرمیں اسرائیل کی جانب سے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ آج جمعرات کو مسجد اقصیٰ کے لیے غزہ کے 300 شہریوں کے نام فائنل کیے گئے تھے صہیونی حکام نے اب انہیں سفر سے روک دیا ہے۔
