(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی فوجیوں نے فلسطین کے سنہ 1948 ء کے مقبوضہ علاقے جزیرہ نما النقب میں ایک جامع مسجد شہید کردی جس کے بعد فلسطین بھر میں عوامی حلقوں میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جمعرات کواسرائیلی فوجیوں نے جزیرہ نما النقب میں الوحید قصبے میں تعمیر کی گئی جامع مسجد کا گھیراؤ کیا اور اسے بلڈوزروں کی مدد سے شہید کرنے کے بعد اس کی زمین سے ہموار کردیا گیا۔اسرائیلی فوج کے اشتعال انگیز اقدام پرفلسطین کے عوامی حلقوں میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینی شہریوں کی جانب سےمسجد کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] کے عرب کمیونٹی سے منتخب ہونے والے رکن طلب عرار نے مسجد کی شہادت کو اشتعال انگیز اور مذہبی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے مسجد شہید کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فلسطینیوں کی عبادت گاہوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ادھر اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد کی شہادت کے بعد فلسطینی شہریوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد کی شہادت کے بعد بڑی تعداد میں مقامی شہری جائے وقوعہ پر جمع ہوگئے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد کی شہادت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطینیوں پرمذہبی جنگ مسلط کی گئی ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا تھا کہ جزیرہ نما النقب کی جامع مسجد الرحمہ کی شہادت قبلہ اوّل پرآئے روز ہونے والے حملوں کا تسلسل ہے۔
