(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے تین فلسطینیوں کے 10 روز سے لاپتا رہنے کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ وہ تینوں فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام پولیس کی حراست میں ہیں۔
رپورٹ میں فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ دس روز قبل تین فلسطینی 33 سالہ باسل محمود الاعرج، 23 سالہ محمد عبداللہ حرب اور 19 سالہ ھیثم السیاج بالترتیب بیت لحم، جنین اور رام اللہ سے اچانک لاپتا ہوگئے تھے۔ جب کہ ان کے ایک ساتھی کو اسرائیلی فوج نے حراست میں لے لیا تھا۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی زیرحراست فلسطینی نوجوان کی نشاندہی پر تین دوسرے فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیلی فوج نے عباس ملیشیا کو مطلع کیا۔ جنہوں نے تلاشی کی کارروائیوں کےدوران تینوں کو گرفتار کرلیا تھا تاہم ان کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے چاروں فلسطینی صہیونی فوج پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے اور وہ غرب اردن میں مزاحمت کاروں کو اسلحہ کی فراہمی کے لیے کوشاں تھے۔
رپورٹ کے مطابق تینوں فلسطینیوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ رام اللہ میں ایک یہودی کالونی کے باہر کھڑے یہودیوں پر فائرنگ کرکے انہیں ہلاک اور اغواء کرنے کی تیاری کررہے تھے۔
اسرائیلی فوج کے ساتھ عباس ملیشیا کا تعاون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ نام نہاد فلسطینی پولیس اپنے شہریوں کو اسرائیلی فوج کےاشاروں پر حراست میں لینے کے بعد انہیں تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔
