رپورٹ کے مطابق’’یورو ۔ مڈل ایسٹ انسانی حقوق آبزرویٹری‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے غرب اردن اور بیت المقدس میں قائم چیک پوسٹوں پر کم سے کم 61 فلسطینی شہریوں کو گولیاں مار کرشہید کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مارے جانے والے تمام فلسطینی ماورائے عدالت اور ماورائے قانون قتل کے زمرے میں آتے ہیں کیونکہ صہیونی فوجیوں نے ایسے فلسطینیوں کو بھی گولیاں مار کر شہید کیا جو ان کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں تھے اور وہ چیک پوسٹوں سے گذر کر اپنے کام پر جانا چاہتے تھے۔
جنیوا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غرب اردن میں ناکوں پر شہید کیے گئے فلسطینیوں میں 21 سالہ عبدالفتاح الشریف اور رمزی قصراوی بھی شامل میں جو اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کا تازہ شکار ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں نے ان دونوں فلسطینی نوجوانوں کو تل ارمیدہ کے مقام پر قائم ایک چیک پوائنٹ پر گولیاں ماریں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فلسطینیوں پر اسرائیلی فوجیوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی جس کے نتیجے میں دونوں فوری طورپر گر پڑے اور جام شہادت نوش کرگئے۔ دونوں فلسطینیوں کو کم سے کم 10 گولیاں ماری گئی تھیں۔
رپورٹ میں اسرائیلی فوج پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قابض فوجی نہ صرف فلسطینیوں کو گولیاں مار کر پھینک دیتے ہیں بلکہ زخموں سے تڑپتے فلسطینیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی۔ کئی بار اسرائیل کے طبی ادارے’ڈیوڈ کریسنٹ‘ کی جانب زخمیوں کو اٹھانے اور انہیں طبی امداد پہنچانے کی کوشش کی گئی مگرقابض فوج نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امدادی کارکنوں کو زخمیوں کے قریب جانے سےروک دیا۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے اب تک فلسطین میں مجموعی طور پر اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں 209 فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں
