رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے محکمہ امور اسیران کے چیئرمین عیسیٰ قراقع نے بتایاکہ ولدہ سمیت گھرمیں جبری نظری بندی کے شکار بچے کے والد نے ان سے ملاقات میں بتایا کہ اسرائیلی فوج نے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے ان کی اہلیہ اور بچے کو گھر پرنظر بند کردیا ہے۔
النجیب کے والد نے بتایا کہ ایک ماہ قبل قابض فوجیوں نے اس کے بیٹے کو حراست میں لیا تھا۔ تاہم بعد ازاں سات مارچ تک اس کی گھر پرنظر بندی کی شرط اور 10 ہزار شیکل جرمانے کی رقم ادا کرنے کے بعد بچے کو جیل سے گھر منتقل کردیا گیا تھا۔
ستم رسیدہ فلسطینی شہری نے عیسیٰ قراقع کو اپنی بپتا سناتے ہوئے بتایا کہ قابض فوجیوں نے ان کے گھر کا آرم و سکون برباد کردیا ہے۔ اس کا بیٹا اور بیوی دونوں گھر کے اندر بند ہیں، نہ تو بچہ اسکول جاسکتا ہے اور نہ ہی وہ دنوں اپنے طبی معائنے کے لیے اسپتال جاسکتے ہیں۔
عیسیٰ قراقع نے رپورٹر کو بتایا کہ اس وقت بیت المقدس میں 2015 ء میں 60 بچوں کو گھروں میں نظر بند رکھنے کی سزائیں دی گئیں جب کہ پچھلے تین سال میں بیت المقدس کے 300 بچے نظر بندی کی سزا بھگت چکے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی ماں اور اس کے بیٹے کی گھرپرجبری نظربندی کو عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی نظربندی کی سزا ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
