مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حال ہی میں فلسطین میں "نیشنل لینڈ ڈیفنس اور یہودی آباد کاری کے خلاف مزاحمت ” نامی کمیٹی کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں صہیونی لابی نے اسرائیل کے خلاف جاری بائیکاٹ مہمات کو ناکام بنانے کے لیے غیرمعمولی سرمایہ کاری کی ہے۔ اسرائیل کی حمایت میں سرگرم عالمی گروپوں کی جانب سے صہیونی ریاست کے بائیکاٹ کو”عالمی جرم” قرار دینے کی مہمات بھی جاری ہیں اور انہیں "سام مخالف” بھی سمجھا جا رہا ہے۔ انہی نعروں کی آڑ میں شدت پسند صہیونی یورپی ممالک میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہمات کو غیرموثر بنانے کے لیے بھاری مقدار میں سرمایہ بھی لگا رہی ہیں مگر اس کے باوجود صہیونی ریاست اور اس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی عالمی مہم پر کوئی اثرنہیں پڑا ہے۔
کمیٹی کے رکن اور تحریک فتح کے رہ نما محمد اشتیہ کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک میں اب نہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار ہونے والی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہمات جاری ہیں بلکہ اب اسرائیل کی ان مصنوعات کے بائیکاٹ کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے جو اس سے قبل یورپی منڈیوں میں بغیر کسی اعتراض کے پیش کی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی مصنوعات کی درجہ بندی کرنے کے بجائے تمام مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کرے کیونکہ کہ تمام مصنوعات مقبوضہ فلسطین ہی میں تیار کی جاتی ہیں۔
فتحاوی رہ نما محمد اشتیہ نے بیلجیم کے صدر مقام برسلز میں اسرائیلی ریاست کے بائیکاٹ کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں بالخصوص فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرنے والے گروپوں کی اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم تیزی کے ساتھ اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
